رسائی کے لنکس

logo-print

طیارہ حادثہ میں معجزانہ طور پر زندہ بچ جانے والی ماں اور بچہ


خطرناک حادثے میں خاتون معمولی سی زخمی ہوئیں اور ان کے چہرے پر جلنے کے نشانات ہیں۔ تاہم، بچہ حادثے میں مکمل طور پر محفوظ رہا۔۔ متاثرہ خاندان ایک چھوٹے سیسنا 303 طیارے میں سوار تھا جو ناریل اور مچھلی لے کر ملک کے پیسفک ساحلی شہر سے مغربی کولمبیا جا رہا تھا

تباہ کن طیارہ حادثے کے پانچ روز بعد، ایک نوجوان ماں اور اس کے بچے کو مغربی کولمبیا کے گھنے جنگل میں زندہ پایا گیا۔

کولمبیا فضائیہ کے سربراہ، کرنل ہیکٹر کاراسیکل نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ 'متاثرہ ماں اور بچے کا زندہ بچ جانا ایک معجزہ ہے۔ یہ ایک جنگلی علاقہ ہے اور یہ حادثہ بہت تباہ کن تھا'۔

اطلاعات کے مطابق، 18 سالہ نیلی موریلو اور ان کا 18 ماہ کا بیٹا یوڈیر مورینو بدھ کے روز طیارہ حادثےکے مقام سے 500میٹر کےفاصلے پر زندہ ملے ہیں۔

خاتون اس خطرناک حادثے میں معمولی سی زخمی ہوئی ہیں۔ ان کے چہرے پر جلنے کے نشانات ہیں۔ تاہم، بچہ حادثے میں مکمل طور پر محفوظ رہا ہے۔

جمعرات کو ذرائع ابلاغ میں متاثرہ خاتوں کی تصاویر شائع ہوئی ہیں، جس میں انھیں اسپتال پہنچانے کے لیے امدادی ہیلی کاپٹر میں سوار کیا جا رہا ہے، خاتون تصاویر میں نڈھال نظر آرہی ہیں، انھیں فوری طور پر قریبی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، جہاں ان کا علاج کیا جارہا ہے۔

کولمبیا کے حکام کے مطابق، متاثرہ خاندان ایک چھوٹے سیسنا 303 طیارے میں سوار تھا جو ناریل اور مچھلی لے کر ملک کے پیسفک ساحلی شہر سے کولمبیا کے مغربی صوبے چاکو کے لیے روانہ ہوا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ طیارہ پرواز بھرنے کے 20 منٹ بعد سول ایوی ایشن کے ریڈار سے لاپتہ ہوگیا اور جب ہوائی جہاز کے پائلٹ سے کوئی رابطہ نہیں ہوسکا تو حکام کو اندازا ہوگیا کہ طیارہ کسی حادثے کا شکار ہوگیا ہے، جس کے بعد علاقے میں طیارے کی تلاش کےلیےجہاز روانہ کیا گیا اور دو روز کی تلاش کے بعد گھنے جنگل میں طیارہ کا ملبہ دیکھائی دیا۔

حکام کی جانب سے طیارہ حادثے کی وجوہات نامعلوم بتائی گئی ہیں۔

کرنل کاراسیکل نےتباہ کن حادثے میں معجزانہ طور پر زندہ بچ جانے والے بچے کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ'یقیناً یہ اس کی ماں کی زندہ دلی تھی جس سےبچے کو زندہ رہنےکی طاقت ملی۔'

تفصیلات کے مطابق، جب امدادی کارکن جائے حادثہ پر پہنچے تو وہاں ہوائی جہاز کے پائلٹ کارلوس ماریو کو مردہ حالت میں پایا، جبکہ جہاز پر سفر ہونے والوں کی فہرست کے مطابق طیارے میں خاتون اور ان کا بچے کا نام بھی شامل تھا۔

کرنل کاراسیکل نےبتایا کہ امدادی ٹیم نےطیارے کا دروازہ کھلا دیکھا تھا، جس سے حکام کے اس شبہ کو تقویت ملی کہ بچ جانے والے مسافر جہاز سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے تھے، اور اسی لیے مسافروں کی تلاش اور امدادی کوششوں کو جاری رکھا گیا۔

انھوں نے کہا کہ امدادی کارکنوں کو طیارے کے ملبے سےچھوٹے بچے کے کھلونے ملے تھے، جبکہ وہاں دوسری کوئی لاش نہیں تھی۔

حکام نے بتایا کہ ایک 14 رکنی امدادی ٹیم نے پچھلے تین روز سے ماں اور بچے کی تلاش کے لیے جنگل کو چھان مارا تھا اور جنگل میں ان کی موجودگی کو نشر کرنے کے لیے لاؤڈ اسپیکر کا سہارا لیا گیا۔

جرنل کاراسیکل کے مطابق امدادی ٹیم کا یہ حربہ کامیاب ثابت ہوا اور بالآخر بدھ کو خاتون اور ان کے بچے کو جائے وقوعہ سے کچھ میٹر کے فاصلے پر ایک چھوٹے دریا کے کنارے پر سے تلاش کر لیا گیا۔

نیلی موریلو نے طبی عملے کو بتایا کہ جب جہاز کے کیبن میں آگ بھڑکی تو وہ بڑی جدوجہد کے بعد جہاز کا دروازہ کھولنے میں کامیاب ہوگیں اور جہاز سے نکل کر جنگل کی طرف بھاگیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ طیارے کے پھٹنے کےخوف سے دریا کے کنارے چھپی رہی تھیں۔

بتایا گیا ہے کہ خاتون پچھلے کئی دنوں میں زندہ رہنے کے لیے جہاز میں موجود ناریل کا پانی پیتی رہی ہیں۔

ذرائع کے مطابق، خاتون نے امدادی ہیلی کاپٹر سے لاوڈ اسپیکر پر آواز سنی تھی، جس سے انھیں جائے حادثے کی طرف پیش قدمی کرنے کی ہمت ملی تھی۔

XS
SM
MD
LG