رسائی کے لنکس

logo-print

فلسطینی تنظیمِ آزادی نے اسرائیل کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کی منظوری دے دی


پروگرام کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکی ایلچی جارج مِچل اگلے چار ماہ کے دوران رَملاّ میں مسٹر عباس کے ساتھ اور یروشلم میں اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے

مذاکرات میں اٹھارہ ماہ کے تعطل کے بعد، فلسطینی تنظیمِ آزادی نے امریکہ کی طرف سے تجویز کردہ اسرائیل کے ساتھ بالواسطہ امن بات چیت شروع کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

تنظیم کی منتظمہ کمیٹی نے امریکی تجویز پر ہفتے کے روز مغربی کنارے کے شہر رمَلاّ میں ہونے والے اپنے اجلاس میں رضامندی کا اعلان کیا۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے پہلے ہی اسرائیل کے ساتھ امریکی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کی توثیق کردی تھی اور منصوبے پر عرب لیگ کی حمایت بھی حاصل کر چکے ہیں۔

پروگرام کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکی ایلچی جارج مِچل اگلے چار ماہ کے دوران رَملاّ میں مسٹر عباس کے ساتھ اور یروشلم میں اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے۔

مسٹر نتن یاہونے پی ایل او کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اُن کی حکومت چاہتی ہے کہ بات چیت شرائط کے بغیر ہو جِس کے باعث براہِ راست مذاکرات جلد ممکن ہو سکیں۔

عباس کے مشیر یاسر عبد رَبّو نے کہا ہے کہ تنظیمِ آزادی ِ فلسطین نے کسی حد تک یہ رضامندی اِس لیے دی ہے کیونکہ تنظیم نے ، اُن کے بقول، یہودی آبادکاری اور اُس کے روکے جانے کے حوالے سے امریکہ کی طرف سے گارنٹی حاصل کر لی ہے ۔

اُنھوں نے کہا کہ کسی اشتعال کی صورت میں مذاکرات پر پڑنے والے اثرات کے معاملے پر بھی امریکہ ایک واضح مؤقف اختیار کرے گا۔ اوباما انتظامیا نے اِن معاملات پر کسی قسم کا کوئی فوری تبصرہ نہیں کیا ۔

امریکی ایلچی مِچل نے ہفتے کے روز رَملاّ میں مسٹر عباس سے ملاقات کی، اورتوقع ہے کہ دونوں اتوار کو پھر ملیں گے۔ حالیہ دِنوں میں مِچل یروشلم میں مسٹر نتن یاہو سے بھی ملاقات کر چکے ہیں۔

فلسطینی شدت پسند گروپ حماس کے ارکان جن کی غزہ کی پٹی پر حکومت ہے، اُنھوں نے یہ کہتے ہوئے پی ایل او کی مذمت کی ہے، کہ اسرائیل سے بالواسطہ مذاکرات کے نتیجے میں آبادکاری کی اسرائیلی کارروائی کو قانونی جواز مل جائے گا۔

فلسطین چاہتا ہے کہ اسرائیل مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کے لیے گھروں کی تعمیر کو روک دے۔ اِن علاقوں پر اسرائیل نے 1967ء کی مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں قبضہ کر لیا تھا ، جِن پر فلسطین کو دعویٰ ہے کہ یہ مستبقل کی اُس کی ریاست کا حصہ ہوں گے۔

اسرائیل نے گذشتہ نومبر سے دس ماہ کے عرصے کے لیے مغربی کنارے میں نئے رہائشی منصوبے پر عمل درآمد نہ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے، لیکن اُس نے مشرقی یروشلم میں یہودی بستیوں کی تعمیر کو ترک کرنے سے انکار کردیا ہے، جِن پر اُس کا دعویٰ ہے کہ یہ اُس کے ابدی دارالحکومت کا جُزو ہیں۔

فلسطینیوں نے کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ بالواسطہ مذاکرات اسرائیل فلسطین تنازع کے اصل معاملے پر مرکوز رہیں، بشمول مستقبل کی فلسطینی ریاست کی سرحدوں اور یروشلم کی حیثیت کے۔

مسٹر عباس کی حکومت نے دسمبر 2008ء میں اسرائیل کے ساتھ بالواسطہ بات چیت کا سلسلہ اُس وقت توڑ دیا جب حماس کے شدت پسندوں کی طرف سے اسرائیلی قصبوں پرراکٹ داغے جانے کو روکنے کے لیے اسرائیل نے غزہ پٹی پر کارروائی کا آغاز کیا۔


XS
SM
MD
LG