رسائی کے لنکس

logo-print

ترکی: مظاہرین کے خلاف کریک ڈائون، درجنوں گرفتار


ترک پولیس نے پیر کی شب استنبول کے 'تقسیم اسکوائر' پر خاموش احتجاج کرنے والے درجنوں افراد کو بھی حراست میں لے لیا تھا۔

ترکی میں گزشتہ تین ہفتوں سے جاری حکومت مخالف پرتشدد مظاہروں میں ملوث ہونے کے شبہ میں پولیس نے درجنوں افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

ترکی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'اناطولیہ' کے مطابق پولیس نے دارالحکومت انقرہ کے مختلف علاقوں میں چھاپے مار کے کم از کم 25 افراد کو حراست میں لیا ہے جب کہ استنبول اور ازمیر میں بھی کئی گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں۔

اس سے قبل ترک پولیس نے پیر کی شب استنبول کے 'تقسیم اسکوائر' پر خاموش احتجاج کرنے والے درجنوں افراد کو بھی حراست میں لے لیا تھا۔

خیال رہے کہ ترکی کے بڑے شہروں میں حکومت مخالف پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ گزشتہ تین ہفتوں سے جاری ہے۔ پیر کو ترک حکومت نے عندیہ دیا تھا کہ وہ مظاہروں پر قابو پانے کے لیے فوجی دستوں کو پولیس کی مدد کے لیے طلب کرسکتی ہے۔

مظاہرین پر پولیس کے مبینہ تشدد کے خلاف ترکی کی دو بڑی مزدور انجمنوں میں نے پیر کو ملک گیر ہڑتال بھی کی تھی۔ ہڑتال کے دوران میں دارالحکومت انقرہ اور استنبول میں مظاہرین کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئی تھیں۔

اس سے قبل اتوار کو ترکی کے نائب وزیرِاعظم رجب طیب اردگان نے اپنے ہزاروں حامیوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ استنبول کے تقسیم اسکوائر سے متصل غازی پارک پر قابض مظاہرین کو وہاں سے بے دخل کرنا ان کی "ذمہ داری" تھی۔

ترکی میں حالیہ مظاہروں کا سلسلہ استنبول کے 'تقسیم پارک' کے نزدیک قائم ایک تاریخی باغ کی از سرِ نو بحالی اور وہاں ایک مسجد کے قیام کے حکومتی منصوبے کے خلاف شروع ہوا تھا جس نے بعد ازاں حکومت مخالف تحریک کی شکل اختیار کرلی تھی۔
XS
SM
MD
LG