رسائی کے لنکس

logo-print

اسرائیلی چرچ پر حملے کے تناظر میں یہودی آباد کار گرفتار


حالیہ برسوں میں یہاں مساجد اور گرجا گھروں پر ایسے ہی حملوں کا سامنا رہا ہے جن کا الزام عام طور پر مغربی کنارے میں آباد کیے گئے انتہا پسند یہودیوں پر عائد کیا جاتا ہے۔

اسرائیل کی پولیس نے کہا ہے کہ اس نے بحیرہ طبریہ کے قریب آتشزدگی سے بری طرح سے متاثر ہونے والے ایک کیتھولک چرچ کے واقعے پر 16 یہودی آبادکار نوجوانوں کو حراست میں لیا ہے۔

اسرائیلی پولیس کے ترجمان مکی روزنفیلڈ نے بتایا کہ جمعرات کو پیش آنے والے اس واقعے میں چرچ کی عمارت مکمل طور پر تباہ ہوگئی تھی اور اس کی بیرونی دیوار پر سرخ رنگ سے یہودیوں کی دعا تحریر کی گئی تھی جس میں "بتوں کی پوجا کرنے والوں کے خاتمے کا کہا گیا"۔

مغربی کنارے میں آبادکاروں سے متعلق اسرائیلی پولیس کا ایک شعبہ اس واقعے کی تحقیقات کر رہا ہے۔ حراست میں لیے گئے نوجوانوں کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ تمام مغربی کنارے میں بسنے والے مذہبی طلبا ہیں۔

لڑکوں کے وکیل ایتمار بن جفیر نے اسرائیلی فوج کے ریڈیو سے گفتگو میں کہا کہ پولیس کے ان نوجوانوں کے خلاف کوئی ثبوت نہیں اور انھیں صرف نوجوان آباد کار ہونے کی وجہ سے مشکوک قرار دیا جا رہا ہے۔

چرچ کے پادری ماتھیاس کارل کا تعلق جرمنی سے ہے۔ انھوں نے بتایا کہ آتشزدگی سے زائرین کے لیے قائم دفتر اور دیگر کمرے بھی تباہ ہوئے جب کہ بائیبل اور دعائیہ کتابوں کو بھی بری طرح نقصان پہنچا۔

حالیہ برسوں میں یہاں مساجد اور گرجا گھروں پر ایسے ہی حملوں کا سامنا رہا ہے جن کا الزام عام طور پر مغربی کنارے میں آباد کیے گئے انتہا پسند یہودیوں پر عائد کیا جاتا ہے۔

اسرائیل کی حکومت ایسے حملوں کی شدید مذمت کرتی آئی ہے اور جمعرات کو چرچ میں آتشزدگی پر بھی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل تمام مذاہب کی آزادی عبادت کا احترام کرتا ہے۔

XS
SM
MD
LG