رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی: پولیس و رینجرز کے مشترکہ آپریشن کے تین ماہ مکمل


ستمبر کے اوائل میں سیاسی جماعتوں کے مشورے سے وفاقی حکومت کی سرپرستی میں صوبائی حکومت کی قیادت میں اس آپریشن کا آغاز کیا گیا تھا۔

پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور اقتصادی مرکز کراچی میں بڑھتے جرائم اور دہشت گردی کے خلاف پولیس کی مدد سے ہونے والے رینجرز کے آپریشن کے تین مہینے مکمل ہو گئے۔
ستمبر کے اوائل میں سیاسی جماعتوں کے مشورے سے وفاقی حکومت کی سرپرستی میں صوبائی حکومت کی قیادت میں اس آپریشن کا آغاز کیا گیا۔
مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ پچھلے تین مہینوں میں تقریبا دس ہزار ملزمان، تین ہزار مختلف قسم کے ہتھیار اور پندرہ ہزار کلو کے قریب دھماکہ خیز مواد پکڑا گیا۔
پاکستان رینجرز سندھ کے ترجمان کے مطابق پچھلے تین مہینوں میں اس آپریشن کے دوران کراچی کے مختلف علاقوں میں ہزار سے زائد چھاپے مارے گئے جن میں ہزار کے قریب مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں چودہ دہشت گرد، سو سے زائد ٹارگٹ کلرز، ایک سو چالیس سے زائد بھتہ خور اور درجن بھر اغوا کار شامل ہیں۔
ان کاروائیوں میں سترہ سو سے زائد مختلف قسم کے ہتھیار برآمد کئے گئے جن میں ایل ایم جی، ایس ایم جی، راکٹ لانچر، رائفل، شارٹ گن، پستول ، دستی بم اور بلٹ پروف جیکٹ شامل ہیں۔
صوبہ ِسندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ کسی کے اعتراض پر کراچی میں ہونے والا ٹارگٹڈ آپریشن بند نہیں کیا جائے گا اور کراچی میں ہر صورت حکومتی رٹ بحال کرائی جائے گی۔
XS
SM
MD
LG