رسائی کے لنکس

logo-print

ماحولیاتی تبدیلی حقیقت ہے، پوپ فرانسس کا اقدام پر زور


امریکی صدر براک اوباما نے پوپ فرانسس کے حالیہ بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے ان کے خط کو متاثر کُن قرار دیا ہے اور کہا کہ پوپ کا فیصلہ مسئلے کو پوری قوت کے ساتھ نہ صرف اجاگر کرتا ہے، بلکہ انھوں نے اس کے حل کے لئے بھی زبردست اخلاقی قوت فراہم کی ہے

پوپ فرانسس نے ماحولیات کی تباہی کے موجب، عالمی حدت کے خاتمے کے لئے جدوجہد کی اپیل کی ہے۔

پوپ فرانسس نے کیتھولک میسحیوں کو جاری کردہ ایک خط میں کہا ہے کہ سائنسی طور پر ثابت ہو چکا ہے کہ عالمی حدت کی وجہ انسانی سرگرمیاں ہیں جس کی وجہ سے دنیا کا ماحولیاتی نظام اسی صدی کے دوران ہی اچانک تباہ ہونے کا خدشہ ہے۔

پوپ فرانسس کا کہنا تھا کہ اس بگڑے ہوئے معاشی نظام کو ختم ہو جانا چاہے جس میں امیر ممالک غریبوں کا استحصال کرتے ہیں اور دنیا کو گندگی کا ڈھیر بنانا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں بڑے پیمانے پر فوری سیاسی و معاشی تبدیلیوں کی ضرورت ہے، اس وقت دنیا ایک انتہائی آلودہ دقیانوسی قسم کے ایندھن پر انحصار کرتی ہے، جو موسمیاتی تبدیلی کا موجب بن رہا ہے۔ کوتاہ اندیش معاشی، تجارتی اور پیداواری سوچ دنیاوی وسائل کی لوٹ مار کا ذریعہ بنی ہوئی ہے۔

امریکی صدر براک اوباما نے پوپ فرانسس کے حالیہ بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے ان کے خط کو متاثر کُن قرار دیا اور کہا کہ پوپ کا فیصلہ مسئلے کو پوری قوت کے ساتھ نہ صرف اجاگر کرتا ہے، بلکہ انھوں نے اس کے حل کے لئے بھی زبردست اخلاقی قوت فراہم کی ہے۔

بقول صدر اوباما، ’ہمیں دنیا کے ان غریبوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے جن کا حصہ اس بحران میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ لیکن، اگر ہم ماحولیات کو تحفظ دینے میں ناکام رہے تو ان کا سب سے زیادہ نقصان ہوگا۔‘

لیکن، چند قدامت پسند ریپبلکن صدارتی امیدواروں سمیت موسمیاتی تبدیلی کے خواہاں لوگوں نے پوپ فرانسس کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے ان کے خط کو امریکی گرین ہاؤسز کو قانونی طور پر بند کرانے کی کوشش قرار دیا۔

صدارتی امیدوار، جیب بش نے پوپ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنی معاشی پالیسی بشپ، کارڈینیل یا اپنے پوپ سے نہیں لیں گے۔

XS
SM
MD
LG