رسائی کے لنکس

logo-print

ماہ اگست، رمضان کے باوجود پر امن نہ گزر سکا


ماہ اگست میں جہاں سیلاب نے ملک میں تباہ کاریوں کی نئی تاریخ رقم کی وہیں اس ماہ دہشت گردی بھی کسی نہ کسی صورت میں عروج پر رہی۔ رمضان کا مہینہ اسلام میں نہایت بابرکت قرار دیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ اسے بہت احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے مگر دہشت گردی کے مختلف واقعات نے اس بار اس احترام کو بھی مجروح کئے بغیر نہ چھوڑا اورتقریباً پورا رمضان دہشت گردی سے لڑتے ہوئے گزرا۔ پشاور ، مہمند ایجنسی اور وانا میں تین دھماکے ہوئے جن میں 40 افرادجاں بحق ہوئے جبکہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے دوران اہم شخصیات سمیت تقریبا ًایک سو تیس افراد لقمہ اجل بن گئے ۔

کراچی میں ٹارگٹ کلنگ نے اگست کے پہلے ہفتے میں شدت اختیار کر لی اور 93افراد ہلاک ہو گئے ۔ یکم اگست کو شاہ فیصل ٹاوٴن کے عظیم پورہ قبرستان ،ماڈل کالونی، اورنگی ٹاوٴن ، نارتھ ناظم آباد، سعید آباد،کورنگی انڈسٹریل ایریا اور دیگر علاقوں میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں حکومتی اتحاد کی ایک جماعت کے سابق کونسلر جبکہ دوسری جماعت کے ایک کارکن سمیت 7 افراد ہلاک اور 5 افراد زخمی ہو گئے۔واقعے سے متاثرہ علاقوں میں سخت کشیدگی پھیل گئی۔ بعض مقامات پر ہوائی فائرنگ بھی ہوئی جس سے متاثرہ علاقوں میں بازار اور دکانیں بند ہو گئیں جبکہ ٹریفک معطل ہو گیا۔

دو اگست کی شام اس وقت کراچی میں ٹارگٹ کلنگ اپنی سنگینی کے لحاظ سے نکتہ عروج پر پہنچ گئی جب ناظم آباد کی جامع مسجد کے وضو خانے میں سات مسلح دہشت گردوں نے فائرنگ کر کے متحد ہ قومی موومنٹ کے رکن سندھ اسمبلی سید رضا حیدر اور ان کے سیکورٹی گارڈ پولیس کانسٹیبل محمد خالد کو ہلاک کر دیا ۔ایم کیو ایم کے رہنما کے قتل کی خبر شہر میں پھیلتے ہی نہ صرف ناظم آباد بلکہ پورے شہر میں بازار اور دکانیں بند ہونا شروع ہوگئیں۔

واقعہ کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں شدید کشیدگی پھیل گئی اور مسلح افراد نے 34 افراد کو قتل کر دیا۔ ٹارگٹ کلنگ کے اس اندوہناک واقعے کے بعد شہر میں پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات کردی گئی تھی اور تین روزہ سوگ کا اعلان کر دیا گیا ۔

اگلے تین چار دنوں میں مزید افراد ٹارگٹ کلنگ اورپرتشددواقعات کانشانہ بنے ۔اس دوران مرنے والو ں کی تعدادبڑھتے بڑھتے 78 ہوگئی جبکہ مختلف علاقوں میں تین گاڑیاں ،صدرکی موبائل مارکیٹ میں 30 اورپاپوش نگرمیں کپڑے کی 12دکانوں کوآگ لگادی گئی۔

ادھر پشاور چار اگست کو ایف سی چوک میں خودکش دھماکے میں ایف سی کمانڈنٹ صفوت غیور 4 محافظوں سمیت جاں بحق ہوگئے۔ 9 دیگر افراد زخمی بھی ہوئے جبکہ تین گاڑیاں تباہ اور قریبی مکانات کے شیشے ٹوٹ گئے۔ دھماکہ سہ پہرساڑھے چاربجے کے قریب ہوا جب ایف سی کمانڈرصفوت غیورکورہیڈکوارٹرسے نکل کرگھر کی طرف روانہ ہورہے تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق سگنل پر گاڑیاں روکی ہوئی تھیں کہ اس دوران خودکش حملہ آورنے اپنی گاڑی ایف سی کی گاڑی سے ٹکرادی۔

پانچ اگست تک کراچی میں ٹارگٹ کلنگ اور پرتشددواقعات میں ہلاک ہونے افرادکی تعدادبڑھ کر93ہوگئی۔

انیس اگست کو کراچی میں ایئرپورٹ کے علاقے میں مسلح ملزمان کی جانب سے گھات لگا کر کئے گئے حملے میں اے این پی کے صوبائی رہنما عبیداللہ یوسف زئی سمیت2افراد کی ہلاکت کے بعد شہر میں ہنگامے پھوٹ پڑے جس میں جلاوٴ گھیراوٴ اور فائرنگ کے واقعات میں مزید12افراد جاں بحق جبکہ درجنوں زخمی ہوگئے۔ شرپسندوں نے متعدد دکانوں اور 12 گاڑیوں کو آگ لگادی۔

اگست کے تیسرے عشرے کی ابتداء پر ہی یعنی اکیس تاریخ کو مہمند ایجنسی میں بم دھماکے میں امن کمیٹی کے عہدیداروں سمیت چھ افراد ہلاک اور پانچ اہلکار زخمی ہو گئے ۔ دھماکا ریموٹ کنٹرول ڈیوائس سے اس وقت کیا گیا جب امن کمیٹی کے رضاکار گاڑی میں معمول کی گشت پر تھے کہ فیضو بڈھا خیل کے مقام پر ایک زوردار دھماکا ہوا۔

23 اگست کو جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا کے مین بازار میں واقع مسجد میں خودکش حملے کے نتیجے میں سابق رکن قومی اسمبلی مولانا نور محمد سمیت 30 افرادجاں بحق اور 70 شدید زخمی ہوگئے۔ سابق رکن قومی اسمبلی مولانا نور محمد نماز ظہر کے بعد مسجد میں درس دے رہے تھے کہ ایک نوعمر خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ دھماکے کے وقت مسجد میں 100 نمازی موجود تھے۔

دوسری جانب کرم ایجنسی میں اسکول کی ملکیت کے تنازع پر ہو نیوالے جرگے اور پشاور میں امن کمیٹی کے ارکان پر بم حملے کے نتیجے میں 12 افراد جاں بحق ہوگئے۔

اسی روز کراچی کے علاقے گلشن اقبال، سوک سینٹر کے قریب نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ سے سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کراچی کے اکاوٴنٹ آفیسر آصف جان ہلاک ہوگئے جو عوامی نیشنل پارٹی کے ایک رکن قومی اسمبلی پرویز خان کے چھوٹے بھائی تھے۔ آصف جان کی ہلاکت کے بعد شہر کے بعض علاقوں میں کشیدگی پھیل گئی۔

24 اگست کو کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں متحدہ قومی موومنٹ کے یونٹ انچارج اور پولیس ہیڈ کانسٹیل سمیت 2افراد ہلاک ہوگئے۔ پولیس کے مطابق علی الصباح تھانہ ابراہیم حیدری کی حدود علی اکبر شاہ گوٹھ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے اپنے گھر کے باہر بیٹھے محمد یعقوب ولد احمد خان ہلاک ہوگئے جن کی لاش جناح اسپتال پہنچائی گئی۔

28 اگست کو پشاور کے ہائی سیکورٹی زون میں امریکی قونصلیٹ کے نزدیک حساس ادارے کی عمارت میں زیر حراست 3 دہشت گردوں نے ایک کمپاوٴنڈ سے دوسرے میں منتقلی کے دوران 2 سنتریوں سے اسلحہ چھین کر انہیں یرغمال بنا لیا اور فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجے میں ایک سیکورٹی گارڈ شدید زخمی ہوگیا۔

دہشت گردوں نے 2 اہلکاروں کو یرغمال بناکر عمارت پر قبضہ کرلیا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری طورپر آپریشن کرتے ہوئے یرغمال اہلکاروں کو بازیاب اور دہشت گردوں کو پھر سے گرفتار کرلیا۔ آپریشن صبح 6بجے شروع ہوا اور 10 گھنٹے تک جاری رہا۔

XS
SM
MD
LG