رسائی کے لنکس

logo-print

مخصوص طبقہ پاکستان کا امیج تباہ کررہا ہے: تجزیہ کار


مقتول گورنر سلمان تاثیر کو سپردخاک کیا جا چکا ہے۔ ان کے قتل پر ایک طرف پاکستان میں یہ بحث شروع ہوچکی ہے کہ کیا معاشرے میں اختلافی نقطہ نظر کو سننے اور برداشت کرنے کا عنصر ختم ہوچکا ہے, تو دوسری طرف بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں قتل کو ملک کے پہلے سے کشیدہ سیاسی ماحول پر اثرات اور ملک میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔ کیا پاکستان کے 18 کروڑ عوام ایک متشدد اور عدم برداشت کی حامل قوم کے تشخص کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے انسانی حقوق کی سگرم کارکن اور تجزیہ کار فرزانہ باری نے کہا کہ وہ ہر گز ایسا نہیں چاہتے ہیں اور انتہا پسندی کے حق میں نہیں ہیں۔ یہ ایک مخصوص طبقہ ہے جو پاکستان کا امیج باقی دنیا کے سامنے مسخ کررہا ہے۔ عالم دین مولانا ابوالفتح چشتی کا کہنا تھا کہ ہمیں اسلام کی اصل روح کو سمجھنے کی ضرورت ہے جو مکمل طور پر امن اور سلامتی ہے۔ تفصیل اس آڈیو میں:

XS
SM
MD
LG