رسائی کے لنکس

logo-print

ٹیکساس آتشزدگی: جائے حادثہ پر امدادی کاروائیاں جاری


فیکٹری میں بدھ کی شب ہونے والے دھماکے اور آتشزدگی کے نتیجے میں 15 افراد ہلاک اور 160 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

امریکہ کی جنوبی ریاست ٹیکساس میں کھاد کی ایک فیکٹری میں ہونے والی آتشزدگی کے بعد جائے حادثہ پر ملبے میں دبی لاشوں اور ممکنہ زخمیوں کی تلاش کا کام جاری ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ 'ویسٹ' نامی چھوٹے سے قصبے میں قائم فیکٹری میں بدھ کی شب ہونے والے دھماکے اور آتشزدگی کے نتیجے میں 15 افراد ہلاک اور 160 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

فیکٹری میں ہونے والے دھماکے سے قصبے کے لگ بھگ 80 مکانات بھی تباہ ہوگئے تھے اور حکام کا کہنا ہے کہ انہیں ملبےسے مزید لاشیں برآمد ہونے کا اندیشہ ہے۔

امدادی کاروائیوں میں مصروف کارکن اور تفتیش کار جائے حادثہ پر زہریلے کیمیائی مادوں کی ممکنہ موجودگی سے بھی خوفزدہ ہیں اور 'نیشنل گارڈ' کی ایک ٹیم علاقے میں نقصان دہ کیمیائی اجزا کی موجودگی کا پتا لگانے کے لیے علاقے میں بھیج دی گئی ہے۔

حکام تاحال اس بات کا تعین نہیں کرسکے ہیں کہ فیکٹری میں ابتدائی آتشزدگی کی وجہ کیا تھی جو ایک بڑے دھماکے کا سبب بنی۔

علاقہ پولیس کے ترجمان کے مطابق وہ جائے حادثہ کو "جائے وقوعہ" ہی تصور کرکے اپنی تحقیقات کر رہے ہیں لیکن ان کے بقول اب تک ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے دھماکے اور آگ کے پیچھے کسی ممکنہ تخریب کاری کا پتا چل سکے۔

حکام نے جائے حادثہ کے نزدیک ہی موجود ایک اسکول کے فٹ بال گرائونڈ میں متاثرہ افراد کے لیے ہنگامی مرکز قائم کردیا ہے جہاں متاثرہ قصبے کے 2800 سے زائد رہائشی مقیم ہیں۔

علاقے میں جاری امدادی کاروائیوں کے لیے نزدیک کے درجنوں قصبوں اور کائونٹیز کے ریسکیو اہلکاروں کو بھی طلب کرلیا گیا ہے جب کہ ریاست ٹیکساس کے گورنر رک پیری کے مطابق ریاستی مشینری بھی مقامی حکام کی مدد کر رہی ہے۔

امریکی ارضیاتی سروے کے مطابق پلانٹ میں ہونے والے دھماکے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 1ء2 شدت کے زلزلے کے برابر تھی جس کے اثرات 80 کلومیٹر دور تک محسوس کیے گئے۔
XS
SM
MD
LG