رسائی کے لنکس

تاثرات: معروف مصنف، محقق رضوان احمد انتقال کرگئے


تاثرات: معروف مصنف، محقق رضوان احمد انتقال کرگئے

اردو کے مشہور افسانہ نویس اور نقاد، جناب رضوان احمد اپنے ہزاروں قارئین اور چاہنے والوں کو سوگوار چھوڑ کر خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ اُن کی عمر 64 سال تھی۔ اُنھیں جگر کا سرطان تشخیص ہوا تھا لیکن بہت دیر ہوچکی تھی۔

اُن کے ایک عزیز دوست اور ’وائس آف امریکہ‘ اردو سروس کے نئی دہلی میں نمائندے سہیل انجم اور اُن کی بیٹی ارم نے اِس سانحے کی اطلاع دیتے ہوئے اِی میل میں بتایا ہے کہ اُن کا انتقال منگل 31مئی کو سہ پہر کے وقت ہوا۔

وہ بھارت کے ادبی اور سماجی حلقوں میں کافی سرگرم رہے اور اُنھوں نے مختلف ادبی تنظیموں میں بھی فعال کردار ادا کیا۔

وہ اپنی نیک طبیعت، نرم گوئی، انکساری اور سب سے بڑھ کر علم و فن کے شعبے میں اپنی صلاحیتوں کی وجہ سے کافی مقبول اور ہردلعزیز تھے۔ اُن کی تصنیفات میں ’ مسدود راہوں کے مسافر‘، ’بادل چھٹ گئے‘، ’فصیلِ شہر‘ اور ’یونان کی شہزادی‘ شامل ہے۔ بہار، اتر پردیش اور مغربی بنگال کی اردو اکادمیوں نے اُنھیں اُن کی ادبی خدمات پر اعزازات سے بھی نوازا۔ رضوان احمد صاحب آل انڈیا اردو ایڈیٹرز کانفرنس کے بانی ارکان میں سے تھے۔

وہ صحافت کے شعبے سے بھی طویل عرصے تک وابستہ رہے۔ اُن کی صحافتی زندگی کی ابتدا پٹنہ کے اخبار ’عظیم آباد ایکسپریس‘ سے ہوئی۔ بہار کے دارالحکومت پٹنہ سے شائع ہونے والے اردو روزنامے ’قومی تنظیم‘ میں اُن کا کالم ’مجھے بولنے دو‘ کے عنوان سے چھپتا رہا جسے کافی پذیرائی حاصل رہی۔ یہ کالم قومی تنظیم کے علاوہ ’اعتماد‘، حیدرآباد، ’اردو ٹائمز‘، ممبئی،’ جدید خبر‘، نئی دہلی اور’ آگ‘، لکھنو میں بھی شائع ہوتا رہا۔ وہ پٹنہ میں اردو اکادمی کے جنرل سکریٹری بھی رہے۔ پٹنہ یونیورسٹی سے اُنھیں ’آزادی کے بعد اردو صحافت‘ کے عنوان سے مقالے پر پی ایچ ڈی کی ڈگری عطا کی گئی۔

دراصل اُن کی زندگی بھارت میں اردو زبان و ادب کی خدمت سے عبارت رہی۔

رضوان احمد صاحب نے بے شمار اردو کانفرنسوں اور مذاکروں میں بھی شرکت کی جِن میں پٹنہ کے معروف علمی اور ادبی تحقیقی مرکز خدا بخش خان لائبریری میں ہونے والی ادبی مجلسیں بھی شامل ہیں۔

رضوان احمد ’وائس آف امریکہ‘ کی اردو سروس سے بھی لمبے عرصے تک وابستہ رہے اور پابندی سے رپورٹیں ارسال کرتے رہے۔

ادبی سرگرمیوں اور اردو ادب کے مشاہیر کے بارے میں اُن کے معلوماتی اور ادبی مضامین وی او اے اردو سروس کی ویب سائٹ کی بھی زینت بنے، جنھیں کافی پسند کیا گیا۔

رضوان صاحب کا تعلق اتر پردیش کے شہر بارہ بنکی سے تھا لیکن اُنھوں نے بعد میں پٹنہ میں سکونت اختیار کرلی اور وہیں درس و تدریس کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔

کچھ ہی عرصہ پہلے اُنھیں اُس وقت شدید صدمے سے دوچار ہونا پڑا تھا جب اُن کا اکلوتا جواں سال بیٹا اچانک اُن سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جدا ہوگیا۔ شاید یہی وہ صدمہ تھا جِس سے وہ جانبر نہ ہو سکے۔ ستم ظریفی یہ کہ آخری دنوں میں تنگ دستی نے بھی اُن کو آلیا جو پسماندہ معاشروں میں بیشتر ادیبوں اور شاعروں کا مقدر ہے۔ اُنھوں نے اپنے فرزند کی برسی پر جو کالم لکھا اُس کا عنوان تھا ’مجھے چپ رہنے دو‘۔

رضوان احمد صاحب کے انتقال پر بھارت کے علمی اور ادبی حلقوں نے گہری تعزیت کا اظہار کیا ہے۔اُن کا کہنا ہے کہ بھارت میں اردو کا ایک اور خدمت گزار ادب کے افق پر اپنا نشان چھوڑ کر بچھڑ گیا۔اُن کی ادبی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی اور علم و فن کی دنیا میں یقینا ًاُن کی کمی محسوس کی جائے گی۔

رضوان احمد صاحب سے ہماری ملاقات پٹنہ میں ہمارے مشترکہ دوست اور کرم فرما جناب میم۔ افضل اورمودود صدیقی صاحب کے توسط سے 1998ء میں اردو اکادمی کے دفتر میں اُس وقت ہوئی جب میں بھارت کے دورے میں نئی دہلی سے وہاں پہنچا۔

وہ ایک نہایت گرم سہ پہر تھی اور وہ دفتر میں علمی اور انتظامی امور میں غرق تھے۔ کافی طویل گفتگو رہی اور اُن کے علم، اُن کی نرم گفتاری اور خلوص کا ایسا تاثر لے کر اٹھا جِس نے ہمیشہ کے لیے اُن کا گرویدہ بنا لیا۔

اِس بات کا بالکل اندازہ نہیں تھا کہ پہلی ملاقات دراصل آخری ملاقات ہوگی اور محض یادیں رہ جائیں گی، اور اُن کے لب و لہجے کی شائستگی بس کانوںمیں گونجتی رہے گی۔ بھارت کے شہر لکھنوٴ سے شائع ہونے والے اردو روزنامے ’اودھ نامہ‘ نے رضوان احمد کی وفات پر اپنے اداریے میں لکھا: ’مجھے بولنے دو کی صدا لگانے والا مجاہد خاموش ہوگیا۔‘

XS
SM
MD
LG