رسائی کے لنکس

logo-print

آئندہ صدارتی انتخاب میں شرکت خارج از امکان نہیں: پیوٹن


یہ معلوم کرنے پر آیا اپنے موجودہ چھ سالہ مدت ختم ہونے پر وہ پھر الیکشن میں حصہ لینے میں دلچسپی رکھتے ہیں، مسٹر پیوٹن نے جواب دیا: ’میں اس امکان کو رد نہیں کر سکتا‘

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ وہ 2018ء کے ملک کے صدارتی انتخابات میں چوتھی بار حصہ لے سکتے ہیں۔

اُنھوں نے یہ بیان صحافیوں اور روسی ماہرین کے ساتھ ہونے والی سالانہ ملاقات میں دیا، جو ملک کے شمال مغربی والدائی علاقے میں منعقد ہوئی۔

یہ معلوم کرنے پر آیا اپنے موجودہ چھ سالہ مدت ختم ہونے پر وہ پھر الیکشن میں حصہ لینے میں دلچسپی رکھتے ہیں، مسٹر پیوٹن نے جواب دیا: ’میں اس امکان کو رد نہیں کر سکتا‘۔

مسٹر پیوٹن 1999ء سے 2000ء تک روس کے وزیر اعظم رہے، جس کے بعد 2000ء سے 2008ء تک وہ دو بار صدارتی میعاد پوری کر چکے ہیں۔ ایک بار پھر وہ 2008ء سے 2012ء تک وزیر اعظم رہے، جب وہ چھ سالہ میعاد کے لیے پھر سے صدر منتخب ہوئے۔

روس کے آئین میں کہا گیا ہے کہ صدر متواتر دو میعاد سے زیادہ عہدہ نہیں سنبھال سکتا۔

مسٹر پیوٹن نے ولادائی کے اجلاس کو بتایا کہ وہ اس بات کی ’100 فی صد‘ تصدیق نہیں کر سکتے آیا شام کے کیمیائی ہتھیار مکمل طور پر تلف ہوجائیں گے۔ تاہم، اُن کا کہنا تھا کہ شام کی طرف سے کیے گئے حالیہ اقدامات سے اس ’اعتماد کو تقویت ملتی ہے‘۔

اِس ضمن میں، اُنھوں نے حکومت شام کے اس اعلان کا ذکر کیا جس میں کہا گیا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کے مجوزہ بین الاقوامی اجلاس میں شرکت کی جائے گی۔

مسٹر پیوٹن نے کہا کہ یہ بات عین ممکن ہے کہ دمشق کے مضافات میں 21اگست کے کیمیائی ہتھیاروں کے حملے میں ’اشتعال بڑھکانے کی غرض سے‘ شام کے صدر بشار الاسد کے دشمن ملوث ہوں، جس میں امریکہ کے بقول، 1400افراد ہلاک ہوئے۔

حکومت شام نے اِس حملے کا ذمہ دار باغی دھڑوں کو قرار دیا ہے۔
XS
SM
MD
LG