رسائی کے لنکس

logo-print

یوکرین نے احتجاج کے دوران روس کے لیے بحری اڈے کے پٹّے کی توثیق کردی


یوکرین کی پارلیمنٹ میں منگل کے روز اُس وقت شدید ہنگامہ برپا ہوگیا، جب روس کے لیے بحیرہ اسود کے کنارے بحریہ کے ایک اڈے کے توسیع شدہ پٹّے کی توثیق کے لیے ووٹنگ ہورہی تھی۔

حزبِ اختلاف کے ارکان نے سپیکر ولوڈی میرلِٹفن پر انڈے پھنکنے کے علاوہ، جو چھتریوں کے پیچھے پناہ لینے پر مجبور ہوگئے تھے، دھواں دار بموں کے دھماکے بھی کیے جن کے نتیجے میں ایوان میں فائر الارم بجنے لگے۔

اس دوران پارلیمنٹ کے باہر بھی ہزاروں لوگ اُس سمجھوتے کے خلاف احتجاج کرتے رہے، جس کے تحت روس ، یوکرین کے بندرگاہ کے شہر سیواستو پول میں بحریہ کے اڈے پر اپنا کنٹرول قائم رکھ سکے گا۔

پارلیمنٹ میں اس تمام تر افرا تفری کے باوجود، 450 نشستوں کی پارلیمنٹ نے 236ووٹوں سے پٹّے میں توسیع کی منظوری دے دی۔روسی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں یا ڈیوما نے بھی توسیع کی توثیق کردی ہے۔

سمجھوتے کے تحت روس کے لیے پٹّے میں 2042 تک توسیع کردی گئى ہے ۔ اس کے بدلے میں روس ، یو کرین کواگلے 10 برسوں تک اُس قدرتی گیس کی قیمت میں 30 فیصد کی رعایت دے گا جو وہ روس سے درآمد کرے گا۔

سمجھوتے کا اعلان پچھلے ہفتے یوکرین کے صدر وِکٹر یانو کو وِچ اور اُن کے روسی ہم منصب دمتری مییڈ وی ڈیف کے درمیان مذاکرات کے بعد کیا گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG