رسائی کے لنکس

logo-print

سابق صدر کی بیوی کی گرفتاری کا روانڈا میں خیر مقدم


اگاتھا ہبیاری مانا

روانڈا کے وزیرِ انصاف نے اس گرفتاری کو ایک اچھی علامت قرار دیا ہے

روانڈا کے عہدے داروں نے فرانس کی جانب سے روانڈا کے سابق صدر اور سنہ1994 کی نسل کُشی کے مبیّنہ منتظم کی بیوہ اگاتھا ہبیاری ماناکی گرفتاری کا خیر مقدم کیا ہے۔

روانڈا کے وزیرِ انصاف نے اس گرفتاری کو ایک اچھی علامت قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ‘انصاف کے لمبےہاتھ آخرِ کار صحیح مقام پر پہنچ رہے ہیں۔’

فرانس کے حکام نے روانڈا کی سابق خاتونِ اوّل کو منگل کےروز روانڈا کے جاری کیے ہوئے ایک وارنٹ پر پیرس کے قریب اُس کے گھر سے گرفتار کرلیا۔بعد میں اُسے رہا کردیا گیا ۔ لیکن اُسے حکم دیا گیا ہے کہ وہ وقفے وقفے سے ایک جج کے سامنے پیش ہوتی رہے۔

فرانس کے عہدے داروں نے کہا ہے کہ وہ اُسے واپس اُس کے ملک بھیجنے کے لیے روانڈا سے اس مقصد کے لیے باضابطہ درخواست کا انتظار کررہے ہیں۔

روانڈا میں عہدے داروں اور قتل عام میں بچ جانے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ اگاتھا ہبیاری مانا اُس نسل کُشی کا انتظام کرنے والے اصل لوگوں میں سے ہے ، جس میں انتہا پسند ہوٹو لوگوں نے لگ بھگ آٹھ لاکھ لوگوں کو ہلاک کیا تھا۔

67 سالہ ہبیاری مانا ان الزامات سے انکار کرتی ہے۔

عام خیال یہ ہے کہ وہ قتلِ عام ہبیاری مانا کے شوہر اور اُس وقت کے صدر جُروِی نال ہبیاری مانا کی موت پر شروع ہوا تھا۔

XS
SM
MD
LG