رسائی کے لنکس

logo-print

شمالی وزیرستان: ڈرون حملوں میں کم ازکم 16 ہلاک


اطلاعات کے مطابق ڈرون حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں ازبک عسکریت پسند بھی شامل ہیں۔

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں چھ گھنٹوں کے دوران دو مبینہ امریکی ڈرون حملوں کے دوران کم از کم 16 افراد ہلاک ہوگئے۔

مقامی قبائلی ذرائع کے مطابق بدھ کو رات گئے درگاہ منڈی میں ایک مکان اور گاڑی پر بغیر پائلٹ کے جاسوس طیارے سے چھ میزائل داغے گئے جس سے کم ازکم چھ افراد مارے گئے۔

اس حملے کے چند گھنٹوں بعد مرکزی قصبے میران شاہ کے قریب ڈانڈے درپہ خیل میں ایک ڈرون حملہ ہوا جس میں 10 افراد ہلاک ہوگئے۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں پر رواں سال کیا جانے والا یہ پہلا مبینہ امریکی ڈرون حملہ تھا۔

خبر رساں ادارے 'اے پی' نے پاکستانی اہل کاروں کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ بدھ کو ہونے والے اس ڈرون حملے کے بعد یوں لگتا ہے کہ قبائلی علاقوں میں لگ بھگ چھ ماہ سے معطل امریکی میزائل حملے پھر سے شروع ہوگئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ڈرون حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں ازبک عسکریت پسند بھی شامل ہیں۔

قبائلی علاقوں میں ذرائع ابلاغ کی رسائی نہ ہونے کی وجہ سے یہاں ہونے والے واقعات کی آزاد ذرائع سے تصدیق تقریباً ناممکن ہے۔

اس حملے سے چند گھنٹے قبل ایک ازبک شدت پسند تنظیم 'اسلامک موومنٹ آف ازبکستان' نے اتوار کو کراچی کے ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

تنظیم نے بدھ کو 'ٹوئٹر' پر جاری کیے جانے والے اپنے ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ کراچی ائیر پورٹ پر حملہ کرنے والے جنگجو اس کے کارکن تھے۔

تنظیم نے حملے میں مبینہ طور پر حصہ لینے والے اپنے دس جنگجووں کی تصاویر بھی جاری کی تھیں اور دعویٰ کیا تھا کہ حملہ پاکستانی فوج کے لڑاکا طیاروں کی جانب سے قبائلی علاقوں میں کی جانے والی حالیہ بمباری کا بدلہ لینے کے لیے کیا گیا ہے۔

امریکہ نے کراچی کے ہوائی اڈے پر دہشت گردوں کے حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئےپاکستان کو حملے کی تحقیقات میں تعاون کی پیش کش بھی کی تھی۔
XS
SM
MD
LG