رسائی کے لنکس

logo-print

کانگو میں لڑائی جاری، سلامتی کونسل معاملے پر غور کرے گی


عام معافی سے متعلق معاہدے پر عدم اتفاق کے باعث حکومت اور ایم 23 کے درمیان امن مذاکرات کا سلسلہ ختم ہو گیا تھا، جس کے چند دنوں بعد جمعہ کو لڑائی کا آغاز ہو گیا۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل جمہوریہ کانگو کی صورت حال پر پیر کو غور کرنے جا رہی ہے، جہاں باغیوں اور سرکاری فوج کے درمیان گزشتہ تین روز سے جھڑپیں جاری ہیں۔

جمہوریہ کانگو کے وزیرِ اطلاعات لامبرٹ مینڈے نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ فوج نے کیوانجا قصبے اور روانڈہ کی سرحد کے قریب صوبہ نارتھ کیوو میں ’ایم 23‘ نامی باغی گروہ کے گڑھ رتشورو کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا ہے۔

باغیوں کے لیے عام معافی سے متعلق معاہدے پر عدم اتفاق کے باعث حکومت اور ایم 23 کے درمیان امن مذاکرات کا سلسلہ ختم ہو گیا تھا، جس کے چند دنوں بعد جمعہ کو لڑائی کا آغاز ہو گیا۔ طرفین نے حملوں میں پہل کا الزام ایک دوسرے پر عائد کیا ہے۔

مینڈے نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ امن مذاکرات اُس وقت تک نہیں ہو سکتے جب تک ’’لٹیرے‘‘کانگو کے عوام، فوجیوں اور بین الاقوامی افواج کو ہلاک کرنے کا سلسلہ بند نہیں کر دیتے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ امن فوج میں شامل تنزانیہ سے تعلق رکھنے والے ایک فوجی کو کیوانجا میں اُس وقت ہلاک کیا گیا جب وہ عوام کو تحفظ فراہم کر رہا تھا۔

ایم 23 میں وہ باغی جنگجو شامل ہیں جنھوں نے 2009ء امن معاہدے کے تحت کانگو کی فوج میں شمولیت اختیار کی تھی مگر بعد ازاں وہ منحرف ہو گئے۔ اُن کا موقف ہے کہ اُن سے خراب سلوک نارواں رکھا گیا اور حکومت نے معاہدے کی پاسداری نہیں کی۔
XS
SM
MD
LG