رسائی کے لنکس

logo-print

اٹھارویں آئینی ترمیم سینٹ میں بھی دو تہائی سے زائد اکثریت سے منظور


اٹھارویں ترمیم کے منظور ہونے کے بعد وزیراعظم گیلانی سینٹ میں خطاب کررہے ہیں

جمعرات کو سینٹ کے اجلاس میں اٹھارویں آئینی ترمیم کی شق وار منظوری کے بعد حتمی رائے شماری کے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے سینٹ کے چیئرمین فاروق نائیک نے بتایا کہ اس کے حق میں 90 ووٹ ڈالے گئے جب کہ ایوان کے کسی رکن نے اس کی مخالفت نہیں کی ۔

سینٹ کے چیئر مین نے کہا کہ ایوان کے دوتہائی سے زیادہ ارکان نے اس بل کے حق میں ووٹ دیے ہیں ا س لیے یہ متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ قومی اسمبلی نے بھی اٹھارویں آئینی ترمیم کو دو تہائی اکثریت سے منظور کیا تھا ۔

پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے متفقہ طور پر منظوری کے بعد اب یہ بل صدر آصف علی زرداری کے پاس دستخط کے لیے بھیجا جائے گا جس کے بعد اٹھارویں ترمیم پاکستان کے آئین کا حصہ بن جائے گی۔

اس ترمیم کے بعد فوجی حکمرانوں کے ادوار میں ایوان صدر کو منتقل کیے گئے اہم اختیارات پارلیمان اور وزیر اعظم کو واپس مل جائیں گے اورصدر کا عہدہ ایک علامتی سربراہ مملکت کا عہدہ بن جائے گا۔ اس کے علاوہ آئین کو معطل کرنے کی سزا بھی غداری کے زمرے میں آئے گی اور کو ئی جج اس غیر قانونی اقدام کی توثیق نہیں کر سکے گا۔

اٹھارویں آئینی ترمیم کے مطابق ججوں کی تقرر ی کے لیے ایک عدالتی کمیشن بنایا جائے گا جس کے سربراہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ہوں گے اور جس کی سفارشا ت کو دو تہائی اکثریت سے منظور یا مسترد کرنے کااختیار ایک پارلیمانی کمیشن کو حاصل ہوگا۔

ٓاٹھارویں ترمیم کی پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد اب صوبہ سرحد کانام خیبر پختون خواہ رکھ دیا گیا ہے تاہم اس شق کے خلاف حالیہ دنوں میں ہزارہ ڈویژن میں پرتشد د مظاہرے کیے گئے ہیں اور علاقے کو ایک الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ بھی زور پکڑتا جار ہاہے۔

اس مطالبہ کے ردعمل میں صوبائی اور وفاقی حکومتوں نے کہا ہے کہ اگر پارلیمان اس کی منظوری دیتی ہے تو انھیں کو ئی اعتراض نہیں ہوگا لیکن اس مقصد کے حصول کے لیے تشدد کی راہ اختیار کرنے سے گریز کیا جائے ۔

XS
SM
MD
LG