رسائی کے لنکس

logo-print

لائبیریا کے سابق ڈکٹیٹر ٹیلر کو جنگی جرائم پر 50 سال کی سزا


لائبیریا کے سابق ڈکٹیٹر چارلس ٹیلر پر الزام تھا کہ انہوں نے سیرالیون میں خانہ جنگی کے دوران ان باغیوں کی مدد کی جنہوں نے ہزاروں لوگوں کو ہلاک اور ہزاروں خواتین کی آبروریزی کی تھی

لائبیریا کے سابق صدرچارلس ٹیلر کو سیرا لیون میں خانہ جنگی کےدوران جنگی جرائم کا مرتکب قرار دیتے ہوئےعدالت نے50سال قید کی سزا سنادی ہے۔ توقع ہے کہ سزا کےخلاف ہیگ کی عالمی عدالت میں اپیل کی جائے گی۔

زرد رنگ کی ٹائی لگائے ہوئے گہرے نیلے سوٹ میں ملبوس لائبیریا کے سابق ڈکٹیٹر چارلس ٹیلر نے اپنی سزا کا اعلان بڑے تحمل کے ساتھ سنا۔ عدالتی بنچ کےصدر جج رچرڈ لیوسک نے یہ حکم پڑھ کرسنایا۔

پچھلے ماہ سیرالیون کے لیے قائم خصوصی عدالت نے ٹیلر کو11 الزامات کا مرتکب قرار دیا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے سیرالیون میں خانہ جنگی کے دوران ان باغیوں کی مدد کی جنہوں نے ہزاروں لوگوں کو ہلاک اور ہزاروں خواتین کی آبروریزی کی تھی۔

وہ پہلے ایسے افریقی لیڈر ہیں جنہیں کسی بین الاقوامی عدالت نے سزاسنائی ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد وہ پہلے ایسے سربراہ مملکت بھی ہیں جنہیں اس طرح کی سزا کا سامنا کرناپڑاہے۔

اس سزا پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سیرالیون کی حکومت نے کہاہے کہ کسی حد تک انصاف کیا گیا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی محقق برائے سیرالیون لیزا شرمن نے بھی اطمینان ا ظہار کیا ہے۔ ان کا کہناہے کہ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ٹیلر کو آج جو سزا سنائی گئی ہے، اس سے سیرالیون اور لائبیریا کی جنگوں میں بچ جانے والے افراد کو اب بھی پوری طرح انصاف نہیں ملا ہے۔ اب لوگ اپنی معمول کی زندگی کی طرف لوٹ جانے کی جدوجہد کررہے ہیں ۔ جج لیوک نے سزاسناتے ہوئے اس پہلو کو سامنے رکھاہے۔

جو افراد جنگی جرائم کا نشانہ بننے کے بعد زندہ بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے تھے ، ان کی زندگیوں پر بھی تباہ کن اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ ہاتھوں اور پاؤں سے مفلوج ایسے اکثر افراد کوئی کام کرنے کے قابل نہیں ہیں اور ان کی گذر اوقات خیرات پر ہے۔

وہ نوجوان خواتین جن کی سرعام آبروریزی کی گئی تھی، کبھی بھی اس صدمے سے باہر نہیں نکل سکیں گی۔ جج لیوک نے سیرالیون کے جرائم کی تاریخ کو انتہائی گھناونے جرائم میں سے ایک قرار دیا۔

XS
SM
MD
LG