رسائی کے لنکس

logo-print

سندھ: بدیاتی قانون میں حالیہ ترامیم غیر قانونی قرار


سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق مذکورہ صورتحال اس جانب اشارہ کررہی ہے کہ بلدیاتی معاملہ طویل پکڑ جائے گا جس کے بعد سندھ میں 18جنوری کو انتخابات کرانا مشکل ہو جائے گا۔

سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ نے بلدیاتی قانون میں کی حانے والی حالیہ ترامیم کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پرویز مشرف کی حلقہ بندیوں کو نہیں مانتے، صوبے میں نئی حلقہ بندیاں کی جائیں۔ ادھر سندھ حکومت نے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق مذکورہ صورتحال اس جانب اشارہ کر رہی ہے کہ بلدیاتی معاملہ طول پکڑ جائے گا جس کے بعد سندھ میں 18جنوری کو انتخابات کرانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوجائے گا۔

سندھ کی 10 بااثر سیاسی جماعتوں نے جن میں متحدہ قومی موومنٹ اور جماعت اسلامی بھی شامل ہے، بلدیاتی قانون میں ترامیم کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں کیس دائر کیا تھا جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ نئی حلقہ بندیوں کے ذریعے سندھ کو دیہی اور شہری علاقوں میں تقسیم کردیا گیا ہے جو سراسر غلط ہے۔

علاوہ ازیں ان جماعتوں کی جانب سے یہ الزام بھی لگایا گیا تھا کہ پیپلزپارٹی نے سیاسی مقاصد کے لئے بلدیاتی قانون میں ترامیم کرکے غلط حلقہ بندیاں کیں جو غیر قانونی اور غیر آئینی ہیں لہذا ان حلقہ بندیوں کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔

درخواستوں کی سماعت کے بعد جسٹس سجاد علی شاہ اورجسٹس فاروق پر مشتمل 2 رکنی ڈو یژنل بنچ نے 24 دسمبر کو فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

عدالتی فیصلہ آتے ہی سندھ کے وزیر ِاطلاعات سندھ شرجیل میمن نے بیان دیا کہ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ 2001 کی حلقہ بندیوں پر بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں لیکن سندھ حکومت ان حلقہ بندیوں کو نہیں مانتی۔ یہ حلقہ بندیاں سابق صدر پرویز مشرف نے اپنے مقاصد کے حصول کے لئے کی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس سپریم کورٹ جانے کا بھی آپشن موجود ہے۔
XS
SM
MD
LG