رسائی کے لنکس

logo-print

آسکر پسٹوریئس اپنی باقی ماندہ قید کی سزا کے لیے گھر منتقل


فائل فوٹو

جنوبی افریقہ کے قانون کے مطابق وہ افراد جن کو پانچ سال کی سزا سنائی جاتی ہے وہ اپنی سزا کا چھٹا حصہ مکمل کرنے کے بعد جیل سے رہا ہونے کے اہل ہیں۔

جنوبی افریقہ کے پیرا اولمپک چمپئین آسکر پسٹوریئس کو پیر کی رات کو جیل سے رہا کر دیا گیا ہے اور انہیں اپنی دوست کو قتل کرنے کے جرم میں دی گئی سزا کا باقی ماندہ عرصہ گھر میں بند رہ کر مکمل کرنا پڑے گا۔

پسٹوریئس کو منگل کو جیل سے رہا کیا جانا تھا تاہم میڈیا کی توجہ سے بچنے کے لیے ان کی رہائی ایک دن پہلے عمل میں آئی۔

وفاقی جیل کے ترجمان مانی لیسی ولیلہ نے کہا کہ "ان کی وقت سے پہلے رہائی "متعلقہ فریقوں کے بہتر مفاد میں عمل میں لائی گئی ہے اور (یہ فریقین) متاثرین، قصوروار اور بحالی کی خدمات فراہم کرنے والا ادارہ ہیں"۔

28 سالہ پسٹوریئس نے اپنی پانچ سال قید کا ایک سال سے بھی کم عرصہ جیل میں گزارا ہے۔ جنوبی افریقہ کے قانون کے مطابق وہ افراد جن کو پانچ سال کی سزا سنائی جاتی ہے وہ اپنی سزا کا چھٹا حصہ مکمل کرنے کے بعد جیل سے رہا ہونے کے اہل ہیں۔

دونوں ٹانگوں سے معذور آسکر پسٹوریئس کو اپنی دوست کے قتل کے مقدمے میں پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ ان کی دوست ریوا اسٹینکیمپ 2013ء میں اس وقت موت کا شکار ہوئیں جب دروازے کے پیچھے سے پسٹوریئس نے ان پر گولی چلائی۔

پسٹوریئس کا موقف رہا ہے کہ انھوں نے یہ سمجھ کر گولی چلائی تھی کہ ان کے گھر میں کوئی گھس آیا ہے۔

تاہم استغاثہ ان کو قتل خطا کی دی گئی سزا کے خلاف تین نومبر کو سپریم کورٹ میں اپیل کریں گے اور انہیں قتل عمد کا سزا وار قرار دینے کی درخواست کریں گے جس کے تحت کم از کم سزا 15 سال قید ہے۔

آسکر پسٹوریئس نے 2012ء میں لندن میں منعقد ہونے والی پیرا اولمپک دوڑ کے مقابلے میں حصہ لے کر سب کو حیران کر دیا تھا اور انھیں 'بلیڈ رنر ' کے نام سے شہرت حاصل ہوئی تھی اور وہ دونوں ٹانگوں سے معذور پہلے کھلاڑی تھے جنہوں نے پہلی بار ان مقابلوں میں حصہ لیا تھا۔​

XS
SM
MD
LG