رسائی کے لنکس

logo-print

جنوبی کوریا: مرس وائرس سے مزید افراد متاثر، ہلاکتوں کی تعداد پانچ


لوگوں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے جب کہ اس وائرس سے نمٹنے کے لیے حکومتی اقدامات پر بھی کئی سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔

جنوبی کوریا میں شعبہ صحت کے حکام نے اتوار کو بتایا کہ ملک میں ریسپائیرٹری سنڈروم (ایم ای آر ایس یا مرس) سے متاثر ہونے والوں کی تعداد 64 ہو گئی ہے جب کہ ایک اور مریض دم توڑ گیا جس سے ہلاکتوں کی تعداد پانچ ہو گئی ہے۔

جنوبی کوریا میں 20 مئی کو اس وبا کے پھوٹنے کا پتا چلا تھا اور مشرق وسطیٰ کے باہر کسی بھی ملک میں اس وائرس کے پھیلاؤ کا یہ سب سے بڑا واقعہ ہے۔

لوگوں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے جب کہ اس وائرس سے نمٹنے کے لیے حکومتی اقدامات پر بھی کئی سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔

وائرس سے متاثرہ تازہ ہلاکت 75 سالہ مریض کی ہوئی جو کہ سیول میں اسی اسپتال میں زیر علاج تھا جہاں 17 دیگر افراد بشمول طبی عملے کے دو ارکان، بھی ممکنہ طور پر اسی وائرس کا شکار ہوئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ جن لوگوں میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے وہ تمام صحت عامہ کی مختلف تنصیبات سے تعلق رکھتے ہیں۔

جنوبی کوریا میں اس مرض کا وائرس مشرق وسطیٰ کے کاروباری دورے سے واپس آنے والے ایک شخص کے ذریعے آیا۔

مرس کا وائرس اسی وائرس کی ایک قسم ہے جس سے 2003ء میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ تنفس کے شدید مسائل (ریسپائیرٹری سنڈروم) کا شکار ہو گئے اور جس کا نہ تو کوئی علاج اور نہ ہی کوئی ویکسین میسر ہے۔

یہ مرض پہلی بار 2012ء میں سعودی عرب میں رپورٹ ہوا تھا اور اس کے بعد یہ کئی ممالک میں پھیل گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG