رسائی کے لنکس

logo-print

جنوبی کوریا کے قانون سازوں کا مشترکہ صنعتی مرکز کا دورہ


حال ہی میں دوبارہ کھلنے والے اس مرکز کو اپریل میں اُس وقت بند کر دیا گیا تھا جب پیانگ یانگ کی طرف سے تیسرے جوہری تجربے کے بعد دوطرفہ تعلقات غیر معمولی کشیدگی کا شکار ہو گئے اور شمالی کوریا نے اپنے 53,000 مزدوروں کو وہاں سے واپس بلا لیا۔

جنوبی کوریا کے قانون سازوں کے وفد نے بدھ کو شمالی کوریا کے ایک سرحدی قصبے کا دورہ کیا جہاں ہمسایہ ملک کے اشتراک سے چلنے والا صنعتی کملیکس دونوں افواج کے مابین کئی ماہ تک جاری رہنے والی کشیدگی کے بعد حال ہی میں دوبارہ کھل گیا ہے۔

کائی سونگ صنعتی کمپلیکس کے دورے کے موقع پر 21 قانون سازوں پر مشتمل وفد اور وزارت برائے یونیفیکیشن کے حکام جنوبی کوریا سے تعلق رکھنے والی کاروباری شخصیات سے ملاقات کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔

اس مرکز کو اپریل میں اُس وقت بند کر دیا گیا تھا جب پیانگ یانگ کی طرف سے تیسرے جوہری تجربے کے بعد دوطرفہ تعلقات غیر معمولی کشیدگی کا شکار ہو گئے اور شمالی کوریا نے اپنے 53,000 مزدوروں کو وہاں سے واپس بلا لیا۔

صنعتی کمپلیکس کو گزشتہ ماہ دوبارہ کھولا گیا تاہم فی الوقت اس کی پیداوار مجموعی صلاحیت کا 80 فیصد ہے۔

بدھ کو سرحد عبور کرنے سے قبل حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے قانون ساز آن ہونگ جون نے کہا کہ اُنھیں امید ہے کہ یہ دورہ صنعتی کمپلیکس اور کوریائی تعاون میں ’’نئے آغاز‘‘ کی جانب پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔
XS
SM
MD
LG