رسائی کے لنکس

logo-print

’مبینہ مظالم، چھان بین کے مطالبات زور پکڑنے لگے‘


’ہیومن رائٹس واچ‘ کے بقول، جنوبی سوڈان میں ’ایک تفصیلی، منصفانہ تفتیش‘ کی ضروری ہے، تاکہ مشکل میں پھنسے ہوئے لوگوں کا ’ماضی سے تعلق توڑنے، اور اُن کے زخموں پر مرہم رکھنے میں مدد مل سکے‘

جنوبی سوڈان میں ڈھائے گئے مبینہ مظالم کی چھان بین کے لیے نئے مطالبات سامنے آئے ہیں، جہاں حکومت اور باغی دھڑوں نے ایک دوسرے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزام لگائے ہیں۔

جمعرات کے روز جاری ہونے والے ایک بیان میں، ’ہیومن رائٹس واچ‘ نے کہا ہے کہ ملک بھر میں’ہولناک جرائم‘ سرزد ہوئے ہیں۔

حقوقِ انسانی کے اِس گروپ کے بقول، ’ایک تفصیلی، منصفانہ تفتیش‘ کی ضروری ہے، تاکہ مشکل میں پھنسے ہوئے جنوبی سوڈان کو ’ماضی سے تعلق توڑنے، اور اُس کے زخموں پر مرہم رکھنے میں مدد ملے گی‘۔

’ہیومن رائٹس واچ‘ کی تحقیق کار، اسکائی وہیلر نے گذشتہ ہفتے تین دِن جنوبی سوڈان میں گزارے۔

اُنھوں نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ ’میں نے لوٹ مار اور گھروں کو نذر آتش کیے جانے کے واقعات دیکھے۔اور ایک اسپتال میں، بظاہر نسلی امتیاز پر مبنی ہلاکتوں کی وارداتیں دیکھیں، ’بور‘ کے علاقے میں ایک گرجا گھر اور گھروں کو جلا ہوا دیکھا، جو ریاستِ جونگلائی کا دارلحکومت ہے‘۔

جمعرات ہی کے روز نیویارک میں، اقوام متحدہ کے ترجمان، فرحان حق نے بتایا کہ عالمی ادارہ ’بور‘ اور دارالحکومت ’جوبا‘ میں ہونے والی انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کا ثبوت اِکٹھا کر رہا ہے۔

ایک اور خبر کے مطابق، اینجلیکن آرک بشپ، جسٹین ویلبی نے جمعرات کو جنوبی سوڈان کے صدر سالوا کیئر سے مذاکرات کیے ہیں۔

آرک بشپ نے مطالبہ کیا کہ عیسائی امدادی کارکنوں کو مبینہ طور پر ہدف بنا کر ہلاک کیے جانے کی رپورٹوں کی تفتیش کی جائے۔

جنوبی سوڈان اُس وقت کشیدگی کا شکار ہوا جب صدر سالوا کیئر نے اپنے سابق نائب صدر، رِک مچار پر تختہ الٹنے کا الزام لگایا، جس الزام کی مچار نے تردید کی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ اس کے بعد ہونے والی تشدد کی کارروائیوں میں ہزاروں افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جن میں سے کچھ ہلاکتیں اُس وقت واقع ہوئیں جب فوج اور باغی دھڑوں کے مابین جھڑپیں ہوئیں، جب کہ دیگر نسلی تشدد کے واقعات تھے جِن میں ہدف بنا کر لوگوں کو ہلاک کیا گیا۔
XS
SM
MD
LG