رسائی کے لنکس

logo-print

بچیوں سے مبینہ ’امتیازی سلوک‘، برطانوی اسکول بند


اسکولوں کے نگراں ادارے کو شکایات موصول ہوئی تھیں کہ اسکول کے کلاس رومز میں لڑکوں کو آگے جب کہ لڑکیوں کو پیچھے کی نشستوں پر بٹھایا جاتا ہے، پھر یہ کہ بچیوں کو زبردستی پردہ کرنے پر بھی مجبور کیا جاتا ہے

برطانیہ میں ایک اسلامی اسکول کو سخت ’ڈریس کوڈ‘ کے اطلاق اور بچیوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے الزامات پر بند کر دیا گیا ہے۔

ڈربی شہر میں واقع المدینہ اسلامی اسکول کے طالب علموں کی جانب سے اسکولوں کے نگراں ادارے ’آفسٹیڈ‘ کو شکایات موصول ہوئی تھیں کہ اسکول کے کلاس رومز میں لڑکوں کو آگے جب کہ لڑکیوں کو پیچھے کی نشستوں پر بٹھایا جاتا ہے، پھر یہ کہ بچیوں کو زبردستی پردہ کرنے پر بھی مجبور کیا جاتا ہے۔

نگراں ادارے کی جانب سے اسکول کے معائنے کے بعد المدینہ اسلامی اسکول کو فوری طور پر غیر معینہ مدت کے لیے بند کردیا گیا ہے۔

رابطہ کیے جانے پر، ’آفسٹیڈ‘ کے ترجمان نے اسکولوں کے معائنے کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔

لیکن، ’بی بی سی‘ کے مطابق، نگراں ادارے کو معائنے کے دوران حاصل ہونے والی معلومات اتنی سنگین لگی کہ اسکول کے خلاف انضباطی فیصلہ کرنا پڑا۔

ایک بیان میں، اسکول کے پرنسیپل نےصحتِ عامہ اور تحفظ کے معاملات کے باعث اسکول کے خلاف اقدام لیتے ہوئے بتایا کہ جب تک یہ یقین نہیں ہو جاتا کہ تمام بچے عمارت میں محفوظ ہیں، المدینہ اسکول بند رہے گا۔

برطانیہ میں سینکڑوں اسلامی اسکول مسلمان بچوں اور بچیوں کو تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔ لیکن، مخلوط نظامِ تعلیم کے تحت چلنے والے اسکولوں کی تعداد کم ہے۔

المدینہ اسکول کے خلاف موصول ہونے والی شکایات کے مطابق، بچیوں کو سخت ڈریس کوڈ کے تحت حجاب پہننے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

برمنگھم سے تعلق رکھنے والے مسلمان رکنِ پارلیمنٹ، خالد محمود کے مطابق، اسکولوں میں بچیوں کی شناخت لازمی ہوتی ہے۔ لہٰذا، اسلامی اسکولوں کو اُنھیں چہرہ ڈھانپنے پر مجبور کرنے سے اجتناب کرنا چاہیئے۔

ہاؤس آف لارڈز کے رکن، لارڈ نذیر احمد نے بتایا کہ بچیوں سے کم تر سلوک برطانوی معاشرے میں ’ناقابلِ قبول ہے‘۔

گذشتہ ہفتے ایک 50 برس کی غیر مسلم ٹیچر نے بھی یہ دعویٰ کیا تھا کہ لباس کے سخت ظابطے پر عمل پیرا نہ ہونے کی پاداش میں اُنھیں المدینہ اسکول سے نکالہ گیا ہے۔

اِس کوڈ کے تحت، اسٹاف کی ساری خواتین کو بھی اپنا سر ڈھانپنا اور حجاب پہننا ہوتا ہے۔
XS
SM
MD
LG