رسائی کے لنکس

logo-print

سوڈان کے صدرپر اب بھی نسل کُشی کا الزام عائد ہوسکتا ہے


آئى سی سی کے وکلائے استغاثہ، نسل کُشی کے الزامات پر یہ کہتے ہوئے زور دیتے رہے ہیں کہ مسٹر بشیر نے دارفُر کے تین نسلی گروپوں کو تباہ کرنے کی کوشش کی تھی

سوڈان کے صدر عمر البشیر ایک بار پھر بین الاقوامی فوجداری عدالت یا آئى سی سی میں ممکنہ طور پر نسل کُشی کے الزامات کاسامناکررہے ہیں۔

آئى سی سی کے اپیل چیمبر نے ججوں کو حکم دیا ہے کہ انہوں نے 2009 میں سوڈان کے دار فُر کے علاقے میں نسل کُشی کے الزامات کے تحت مسٹر بشیر پر فردِ جرم عائد نہ کرنے کا جو فیصلہ کیا تھا، وہ اُس پر نظرِ ثانی کریں۔اپیل چیمبر نے بدھ کے روز کہا ہے کہ ججوں نے اُس فیصلے تک پہنچنے کے لیے ثبوت کے ایک بہت بلند معیار کا اطلاق کیا تھا۔

آئى سی سی کے وکلائے استغاثہ، نسل کُشی کے الزامات پر یہ کہتے ہوئے زور دیتے رہے ہیں کہ مسٹر بشیر نے دارفُر کے تین نسلی گروپوں کو تباہ کرنے کی کوشش کی تھی۔

آئى سی سی کے ججوں نے پچھلے سال کہا تھا کہ مسٹر بشیر پر نسل کُشی کا الزام عائد کرنے کے لیے کافی شہادت موجود نہیں ہے۔ لیکن اُنہوں نے اُن پر جنگی جرائم اور خلافِ انسانیت جرائم کے الزامات کے تحت فردِ جرم عائد کردی تھی۔ عدالت کا کہنا ہےکہ انہوں نے دارفُر میں عام شہریوں کے خلاف جنسی تشدّد، قتل اور دوسرے جرائم کا منصوبہ بنایا تھا۔

آئى سی سی کے چیف پروزیکیوٹر لُوئیس مارینو اوکامپو اور اسی کے ساتھ ساتھ دارفُر میں باغیوں کی سب سے بڑی تنظیم انصاف اور مساوات کی تحریک نے بدھ کے روز اپیل کورٹ کے فیلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

سوڈان کے عہدے داروں نے آئى سی سی پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ عنقریب ہونے والے اُس الیکشن میں مداخلت کرنے کی کوشش کررہی ہے، جس میں صدر بشیر دوسری معیاد کے لیے اُمید وار ہوں گے۔

XS
SM
MD
LG