رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ، مصر کو دی جانے والی امداد پر نظر ِ ثانی کرے: امریکی قانون ساز


ایک ایسے وقت میں جب مصر کی عبوری حکومت مصر میں اسلام پسند تنظیم اخوان المسلمین پر پابندی عائد کرنے پر غور کر رہی ہے، امریکی قانون ساز مصر کو دی جانے والی امداد بند کرنے کا مطالبہ کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

امریکی قانون سازوں کی ایک بڑی تعداد امریکہ کی جانب سے مصر کو دی جانے والی امداد پر نظر ِ ثانی کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب مصر کی عبوری حکومت مصر میں اسلام پسند تنظیم اخوان المسلمین پر پابندی عائد کرنے پر غور کر رہی ہے، امریکی قانون ساز مصر کو دی جانے والی امداد بند کرنے کا مطالبہ کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

گذشتہ ماہ، ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر جان میک کین اور سینیٹر کیلی ایوٹ نے مصر کو دی جانے والی امریکی امداد پر پابندی لگانے کی مخالفت کی تھی۔ مگر اتوار کے روز جان میک کین اور کیلی ایوٹ یہ کہتے دکھائی دئیے کہ انہوں نے اس سلسلے میں اپنا موقف بدل لیا ہے۔

این بی سی چینل کے معروف ٹی وی شو ’میٹ دی پریس‘ سے گفتگو میں ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والی سینیٹر کیلی ایوٹ کا کہنا تھا کہ گذشتہ ایک ہفتے میں مصر میں جاری پُرتشدد کارروائیوں کے بعد امریکہ کی جانب سے امداد جاری رکھنے سے مصر کی فوج کو غلط پیغام ملے گا۔

کیلی ایوٹ کے الفاظ، ’مصر میں ہونے والی حالیہ پرتشدد کارروائیوں کے بعد، مجھے نہیں معلوم کہ ہم مصر کی امداد کیسے جاری رکھ سکتے ہیں؟ میرا خیال ہے کہ ہمیں اسے معطل کر دینا چاہیئے۔ بدقسمتی سے، مصر کی فوج کو یہ تاثر ملا ہے کہ وہ جو کچھ بھی کریں، ہم ان کی امداد جاری رکھیں گے۔‘

’میٹ دی پریس‘ میں ہی گفتگو کرتے ہوئے ڈیموکریٹک جماعت کے سینیٹر جیک ریڈ کا کہنا تھا کہ مصر میں ہونے والے حالیہ واقعات، امریکہ کی جانب سے مصر کو دی جانے والی امداد میں ’تبدیلی‘ کے متقاضی ہیں۔ لیکن دوسری طرف انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکہ کو مصر کے ساتھ تعلقات استوار رکھنے چاہیئں۔

دوسری طرف، ریپبلکن جماعت سے تعلق رکھنے والے سینیٹر باب کورکر کا کہنا تھا کہ انکا خیال ہے کہ مصر کو دی جانے والی امداد کا دوبارہ تعین کرنا مناسب ہوگا اور اسے گھٹا دینا چاہیئے۔

سینیٹر باب کورکر کے الفاظ، ’ہم شمال مشرقی سِنائی میں ان کی مدد چاہتے ہیں۔ ہم سوئیز نہر تک رسائی کے لیے ان کی مدد چاہتے ہیں۔ لہذا ہمیں اس بات کا تعین کرنا چاہیئے کہ ہمارا قومی مفاد کیا ہے؟‘
XS
SM
MD
LG