رسائی کے لنکس

logo-print

شامی صدر کا مجرموں کے لیے عام معافی کا اعلان


اپنےخلاف مارچ 2011ء میں شروع ہونے والی احتجاجی تحریک کے آغاز کے بعد سے صدر بشار الاسد کئی بار اس طرح کی عام معافی کا اعلان کرچکے ہیں۔

شام کےصدر بشار الاسد نے ملک کی جیلوں میں بند قیدیوں، جرائم پیشہ افراد اور اپنی حکومت کے خلاف لڑنے والے باغیوں کے لیے عام معافی کا اعلان کیا ہے۔

مسلسل تیسری بار سات سال کے لیے صدر منتخب ہونے کے چند روز بعد سامنے آنے والا عام معافی کا یہ اعلان باغیوں کے لیے ہتھیار پھینکنے سے مشروط ہے۔

شام کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر اسد نے جیلوں میں بند بعض قیدیوں کی موت کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کردیا ہے جب کہ قید کاٹنے والے مجرموں کی سزاؤں میں تخفیف کی ہے۔

تخفیف کے نتیجے میں کئی قیدی رہا ہوگئے ہیں جب کہ صدر کی جانب سے بھی بعض قیدیوں کی سزا مکمل طور پر معاف کردی گئی ہے۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق "کسی دہشت گرد گروہ میں شامل ہونے یا دہشت گرد کارروائی کا حصہ بننے" کے ارادے سے شام میں داخل ہونے والے غیر ملکیوں کے لیے بھی عام معافی کا اعلان کیا گیا ہے بشرطیکہ وہ ایک ماہ کے اندر خود کو حکام کی تحویل میں دے دیں۔

صدارتی اعلامیے میں اپنے مغویوں کو رہا کرنے والے اغوا کاروں اور سرکاری فوج کا ساتھ چھوڑنے والوں کو بھی عام معافی دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔

اپنےخلاف مارچ 2011ء میں شروع ہونے والی احتجاجی تحریک کے آغاز کے بعد سے صدر بشار الاسد کئی بار اس طرح کی عام معافی کا اعلان کرچکے ہیں۔

تاہم ان کے ان اعلانات کے برعکس گزشتہ تین برسوں کے دوران احتجاجی تحریک مکمل خانہ جنگی اور مسلح بغاوت میں تبدیل ہوچکی ہے جس میں کمی کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے۔

صدر اسد کے مخالفین کا موقف ہے کہ گزشتہ معافیوں کے نتیجے میں بھی محض چند افراد کو جیلوں سے رہا کیا گیا تھا اور ان کے نتیجے میں صدر اسد کی مخالفت کرنے کی پاداش میں قید ہزاروں افراد اور سیاسی کارکنوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوا تھا۔

صدر کے مخالفین کا دعویٰ ہے کہ حکومت کے سیاسی مخالفین کو جیلوں میں امتیازی سلوک اور تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
XS
SM
MD
LG