رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی حکام سے ملاقات پر شامی نائب وزیرِاعظم برطرف


قادری جمیل نے ہفتے کو جنیوا میں شام کے لیے امریکہ کے سابق سفیر رابرٹ فورڈ سے ملاقات کی تھی۔

شام کی حکومت نے بغیر اجازت سوئٹزرلینڈ جانے اور وہاں امریکی حکام کے ساتھ ملاقات کرنے کی پاداش میں ملک کے نائب وزیرِاعظم قادری جمیل کو ان کے عہدے سے برطرف کردیا ہے۔

شام کے سرکاری ٹی وی چینل پر نشر کیے جانے والے ایک سرکاری بیان کے مطابق نائب وزیرِ اعظم اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کرتے ہوئے بغیر اجازت اپنے مرکز سے غائب ہونے اور ملک سے باہر ایسی سرگرمیوں کے مرتکب پائے گئے تھے جن کے بارے میں انہوں نے حکومت کو مطلع نہیں کیا۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' نے بعض امریکی اور عرب سفارت کاروں کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ قادری جمیل نے ہفتے کو جنیوا میں شام کے لیے امریکہ کے سابق سفیر رابرٹ فورڈ سے ملاقات کی تھی۔

سفارت کاروں کےمطابق دونوں رہنماؤں نے اپنی ملاقات میں 'جنیوا 2' کو عنوان سے ہونے والی مجوزہ امن کانفرنس کی تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا تھا جس کا مقصد صدر بشار الاسد کی سربراہی میں قائم حکومت اور اس کے خلاف لڑنے والے باغیوں کو مل بیٹھ کر بحران کا حل نکالنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔

ایک عرب سفارت کار نے 'رائٹرز' کو بتایا ہے کہ شامی نائب وزیرِاعظم کے ساتھ ملاقات سے قبل سابق امریکی سفیر نے ماسکو میں روسی حکام کے ساتھ بھی طویل ملاقات کی تھی جو ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی نتیجے تک پہنچے بغیر ہی ختم ہوگئی تھی۔

شامی حکام کے مطابق برطرف نائب وزیرِاعظم کا تعلق حزبِ اختلاف کے اس اتحاد سے تھا جسے شامی صدر بشار الاسد "محبِ وطن حزبِ اختلاف" قرار دیتے ہیں۔

اس اتحاد میں شامل جماعتیں صدر اسد کی مخالفت تو کرتی ہیں لیکن انہوں نے اسد حکومت کے خلاف گزشتہ ڈھائی برسوں سے جاری مسلح مزاحمت میں شرکت سے گریز کیا ہے۔
XS
SM
MD
LG