رسائی کے لنکس

logo-print

طالبان رہنماؤں کو غیر مسلح کرنا قبل از وقت ہے: امریکہ


امریکی وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس کا کہنا ہے کہ اب جب کہ مزید فوجی افغانستان پہنچ کر نئی امریکی حکمت عملی کا حصہ بن رہے ہیں، طالبان کے مزید چھوٹی سطح کے عسکریت پسند افغان حکام کے سامنے ہتھیار ڈال رہے ہیں۔

لیکن انہوں نے کہا کہ صدر حامد کرزئی کی طرف سے عسکریت پسند تنظیموں کے رہنماؤں کے ساتھ بات چیت شروع کرنے کی کوششوں کے باوجود ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ انتہاپسند جنگ جو ’مناسب‘ شرائط پر امن قائم کرنے پر آمادہ ہوں گے۔

گیٹس نے بدھ کے روز کانگریس کو ایک سماعت میں بتایا کہ انہیں افغانستان میں سیاسی تصفیے کے دو حصے نظر آتے ہیں، طالبان کی معاشرے میں واپسی اور مصالحت۔

انہوں نے کہا کہ واپسی کا عمل پہلے ہی سے شروع ہو گیا ہے، اور کئی عسکریت پسند فوجی واپس آ رہے ہیں جن کی اکثریت پیسوں کی خاطر لڑتی تھی۔

امریکی وزیرِ دفاع نے مفاہمت کے بارے میں بتایا کہ یہ اعلیٰ عسکری قیادت سے ہو سکتی ہے۔ البتہ انہوں نے واضح کیا کہ جنگ میں نیٹو کا پلہ اتنا بھاری نہیں ہوا کہ طالبان رہنماؤں کو یہ یقین ہو کہ وہ ہار رہے ہیں۔

گیٹس نے کہا ہے کہ ہتھیار ڈال دینے پر مزید جنگجوؤں کی حوصلہ افزائى کرنے کے لیے افغان حکومت اور اُس کے اتحادیوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ نچلے درجے کے اُن جنگجوؤں کو روز گار اور تحفظ فراہم کریں جو حکومت کا ساتھ دینے کا فیصلہ کرلیں۔

XS
SM
MD
LG