رسائی کے لنکس

جوزجان کی پولیس کے ترجمان محمد رضا غوری نے بتایا کہ علاقے کے معززین اور پولیس کسانوں کی رہائی کے لیے طالبان سے بات چیت کی کوشش کر رہے ہیں, بصورت دیگر ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

أفغانستان میں مسلح افراد نے بدھ کے روز 52 کسانوں کو اغوا کر لیا جن میں سے اکثریت کا تعلق دور افتادہ شمالی صوبے جوزجان کی ازبک کمیونٹی سے ہے۔

عہدے داروں نے بتایا کہ فوری پر یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ انہیں اغوا کرنے کا مقصد کیا ہے۔

أفغانستان کے شمالی علاقے، جہاں ایک زمانے میں امن اور استحکام تھا، حالیہ برسوں میں طالبان عسکریت پسندوں کے علاقے پر قبضے اور اسلامک اسٹیٹ سے وفاداری رکھنے والے گروہوں میں اضافے سے اغوا اور گولیاں مار کر ہلاک کیے جانے کے واقعات کا مرکز بن گئے ہیں۔

عسکریت پسند گروہ زیادہ تر أفغان اور پاکستانی طالبان کے منحرفین ارکان پر مشتمل ہیں۔

بدھ کے روز اغوا کے اس واقع میں عسکریت پسند صوبہ جوزجان کے ضلع دارزاب کے تین دیہاتوں سے کسانوں کو اس وقت زبردستی اپنے ساتھ لے گئے جب وہ اپنے کھیتوں میں کام کررہے تھے۔

صوبائی پولیس نے اغوا کا إلزام طالبان جنگجوؤں پر لگایا ہے جن کا صوبے کے زیادہ تر حصوں پر کنٹرول ہے۔

جوزجان کی پولیس کے سربراہ کے ترجمان محمد رضا غوری نے بتایا کہ علاقے کے معززین اور پولیس کے چیف کسانوں کی رہائی کے لیے طالبان سے بات چیت کی کوشش کر رہے ہیں اور اگر مذاكرات کامیاب نہ ہوئے تو ہم ان کے خلاف آپریشن کریں گے۔

ترجمان نے مجوزہ آپریشن کی تفصیلات نہیں بتائیں۔

طالبان کے ترجمان ذبح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ انہوں نے یہ خبریں سنی ہیں لیکن وہ اس کی تصدیق نہیں کرسکتے اور وہ معلومات اکٹھی کر رہے ہیں۔

جوزجان وہی أفغان صوبہ ہے جہاں پچھلے ہفتے مسلح افراد نے اس وقت بین الاقوامی ریڈ کراس کے چھ اہل کاروں کو ہلاک کر دیا تھا جب وہ برفانی طوفان سے متاثرہ افراد تک امدادی سامان پہنچانے کی کوشش کر رہے تھے۔

اس دوران ریڈ کراس کے دو کارکنوں کو اغوا بھی کیا گیا تھا۔ ان دهشت گرد کارروائیوں کے نتیجے میں بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی نے فوری طور پر أفغانستان میں اپنی امدادی سرگرمیاں معطل کر دیں تھیں۔

XS
SM
MD
LG