رسائی کے لنکس

logo-print

طالبان کو دوبارہ سماج میں سمونے کے پروگرام کے لیے 14 کروڑ ڈالر کے وعدے


افغانستان کو مستحکم کرنے کے بارے میں لندن میں ایک بین الاقوامی کانفرنس مندوبین کی جانب سے اُس فنڈ کے قیام کے لیے 14 کروڑ ڈالر سے زیادہ رقوم کے وعدوں کے ساتھ ختم ہو گئى ہے جس کا مقصد طالبان جنگ جوؤں کو دوبارہ افغان معاشرے کا حصّہ بنانا ہو گا۔

برطانوی وزیرِ خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے جمعرات کے روز اُس ایک روزہ کانفرنس کے اختتام پر ان وعدوں کا اعلان کیا، جس میں لگ بھگ 70 ملکوں کے مندوبین نے شرکت کی۔

وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ جتنی رقم کا وعدہ کیا گیا ہے، وہ اس پروگرام کے پہلے سال کے لیے ہو گی۔ اور یہ کہ طالبان کو واپس افغان معاشرے میں رچانے بسانےکی اس کوشش کے لیے بین الاقوامی عزم موجود ہے۔

خیال ہے کہ اس پورے پروگرام کی مالیت تقریباً 50 کروڑ ڈالر ہو گی۔اس کے تحت افغانستان میں بغاوت کو کمزور کرنے کے لیے طالبان کے اُن لشکریوں کو ملازمتیں فراہم کی جائیں گی، جو تشدّد اور انتہا پسندانہ نظریات کو ترک کر دیں گے۔

اس سے پہلے امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے کہا کہ طالبان لشکریوں کو دوبارہ معاشرے کا حصّہ بنانے کے بارے میں افغان صدر حامد کرزئى کے منصوبے سے افغانستان کو مزید استحکام اور سلامتی مِلے گی۔

انہوں نے کہا کہ صحیح ترغیبات فراہم کی جائیں تو بہت سے نچلی سطح اور درمیانی سطح کے طالبان لشکری افغان جمہوریت کا حصّہ بن سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ تشدّد کو ترک کر دیں اور افغانستان کے آئین کے تمام تقاضوں کو قبول کر لیں۔

کانفرنس کے مندوبین نے اس بات سے بھی اتفاق کیا ہے کہ افغانستان کو خود اپنی سلامتی پر زیادہ اختیار حاصل ہونا چاہئیے۔ کانفرنس کے اختتام پر جاری ہونے والے ایک اعلامیے میں مندوبین نے کہا ہے کہ انہوں نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے سخت کوشش کرنے کا عزم کیا ہے کہ افغان حکومت خود اپنے اداروں اور وسائل کو ترقی دیتے ہوئے اپنے شہریوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے اپنی صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ کرتی رہے۔

اعلامیے میں کہا ہے کہ افغان حکومت اسی سال کابل میں ایک اور کانفرنس کی میزبانی کے فرائض انجام دے گی۔

XS
SM
MD
LG