رسائی کے لنکس

logo-print

اساتذہ کا ڈیپریشن کلاس روم میں بچوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے: تحقیق


ماہرین کا کہنا ہے کہ اساتذہ میں پائے جانے والا ڈیپریشن ان کے زیر ِتربیت بچوں کی قابلیت اور تعلیمی استعداد کو متاثر کر سکتا ہے۔

ایک نئی تحقیق کے مطابق اگر اساتذہ میں ڈیپریشن کے مسائل پائے جائیں تو اس سے ان کے طلبہ کی کارکردگی بھی متاثر ہونے کا اندیشہ ہے جنہیں وہ پڑھاتے ہیں۔

اس تحقیق میں 27 ایسے اساتذہ کو شامل کیا گیا جن میں ڈیپریشن کا مرض پایا جاتا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اساتذہ میں پائے جانے والا ڈیپریشن ان کے زیر ِتربیت بچوں کی قابلیت اور تعلیمی استعداد کو متاثر کر سکتا ہے۔

کیرل میکڈونلڈ سائیکولوجی کی پروفیسر ہیں اور ایریزونا یونیورسٹی سے منسلک ہیں اور کہتی ہیں کہ، ’اگر استاد کو ڈیپریشن ہو مگر وہ ریاضی میں بہت قابل ہو تو پھر ایسے بچوں کو زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ مگر اگر استاد ڈیپریشن کا شکار ہو اور اسے اپنے مضمون پر عبور نہ حاصل ہو، اس سے طلبہ کو بہت فرق پڑ سکتا ہے‘۔

اس تحقیق کے لیے امریکی ریاست فلوریڈا میں 2010 سے 2011 کے درمیان 27 کلاس رومز میں تیسری جماعت کے 520 طلبہ کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا۔

اساتذہ نے سوالنامے میں اپنے ڈیپریشن سے متعلق مختلف علامتوں کے بارے میں لکھا جس میں اکیلا پن، سونے میں دشواری اور دیگر کئی عوامل شامل تھے۔

تحقیق کے نتائج سے یہ بات سامنے آئی کہ اساتذہ کے ڈیپریشن میں اضافے کے ساتھ ساتھ ان کے پڑھانے کے انداز پر بھی واضح فرق پڑا اور اس میں ابتری دیکھنے کو ملی۔

ماہرین کہتے ہیں کہ اساتذہ میں پائے جانے والے ڈیپریشن میں ان کی زندگی کے عوامل کے علاوہ اسکول میں پائے جانے والے ماحول کا بھی عمل دخل ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کلاس روم اچھی طرح نہ سجایا گیا ہو یا کلاس روم کی حالت بہت بری ہو تو اس سے بھی اساتذہ کو ڈیپریشن ہو سکتا ہے اور ان کے پڑھانے کی صلاحیت پر فرق پڑ سکتا ہے۔

یہ تحقیق چائلڈ ڈیویلپمنٹ میں شائع کی گئی۔

XS
SM
MD
LG