رسائی کے لنکس

logo-print

تھائی لینڈ: صحافیوں پر ہتک عزت کا مقدمہ، پیشی


دونوں صحافی جمعرات کے دِن پھُکیت کی ایک عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ موریسن نے کہا ہے کہ دراصل یہ اُن اقدامات کا ایک حصہ ہے جو تھائی لینڈ میں آزادی پریس کا ’گلا گھونٹنے کے لیے جاری ہے‘

تھائی لینڈ کی ایک عدالت نے دو صحافیوں پر ہتک عزت کے الزامات عائد کیے ہیں۔ اُن پر الزام ہے کہ اُنھوں نے ایک رپورٹ کے کچھ حصےشائع کیے، جس میں تھائی بحریہ پر برما سے بھاگ نکلنے والے روہنگیا مسلمان پناہ گزینوں کی چوری چھپے مدد کی۔

آسٹریلیا کے ایک ایڈیٹر، ایلن موریسن اور اُن کے ایک تھائی ساتھی، چُٹیما سداستھیان پر ملک کے کمپیوٹر سے متعلق جرائم کے ضابطوں کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا گیا۔ سزا کی صورت میں، اُنھیں سات برس کی قید اور 3000ڈالر جرمانہ ہو سکتا ہے۔

دونوں حضرات جمعرات کے دِن پھُکیت کی ایک عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ موریسن نے مقدمے پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ’دراصل یہ اُن اقدامات کا ایک حصہ ہے جو تھائی لینڈ میں آزادی پریس کا گلا گھونٹنے کے لیے جاری ہے‘۔

موریسن اورچُٹیما پھُکیت کے ایک انگریزی زبان ویب سائٹ کے لیے کام کرتے ہیں، جس نے گذشتہ برس رائٹرز کی طرف سے روہنگیا مسلمان پناہ گزینوں کے بارے میں جاری کی گئی رپورٹ کو دوبارہ شائع کیا تھا۔

روہنگیا کے بارے میں اِس رپورٹ پر، رائٹرز کو ’پُلٹزر پرائیز‘ مل چکا ہے۔ روہنگیا وہ مسلمان آبادی ہے جو برما کی مبینہ صعوبتوں سے بچنے کے لیے ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں۔

دونوں صحافیوں کو جمعرات کے روز ضمانت پر رہا کیا گیا۔
XS
SM
MD
LG