رسائی کے لنکس

logo-print

اسکولوں کی تبدیلی سے بچوں کی تعلیمی کارکردگی متاثر: رپورٹ


تحقیق کے مطابق اسکولوں کی تبدیلی کم آمدنی والے گھرانوں کے بچوں کی اسکول کی کامیابیوں کے لیے ایک اہم خطرے کا عنصر ہے۔

ایک نئی تحقیق بتاتی ہے کہ اسکولوں کی بار بار تبدیلی سے کم آمدنی کے گھرانوں کے بچوں کا رویہ اور توجہ متاثر ہوتی ہے جبکہ ان کے ریاضی کے گریڈ کو نقصان پہنچتا ہے۔

امریکی تحقیق کاروں کے مطابق پرائمری اسکول کے دوران تقریباً ہر سال اسکول کی تبدیلی اس امکان کو بڑھا دیتی ہے کہ بچے کو آگے تعلیمی میدان میں طویل مدت تک مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

نیویارک سٹی کی معروف 'نیویارک یونیورسٹی' کی طرف سے منعقد کی جانے والی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ پانچ سال تک ایک ہی اسکول میں پڑھنے والے کم آمدنی والے گھرانوں کے بچوں کی سوچنے کی مہارت بہتر تھی۔ ان کے ریاضی کے گریڈ ان بچوں کے مقابلے میں اچھے تھے جنھیں کئی بار اسکول تبدیل کرنا پڑا تھا۔

تحقیق کی سربراہ پروفیسر ایلسن فریڈمین نے کہا کہ سادہ سی بات ہے کہ اسکولوں کی تبدیلی کم آمدنی والے گھرانوں کے بچوں کی اسکول کی کامیابیوں کے لیے ایک اہم خطرے کا عنصر ہے۔

جریدہ 'ڈیولپمنٹ سائیکولوجی' کے حالیہ شمارے میں شائع ہونے والے مطالعے کے لیے ماہرین نے 381 شکاگو کے سرکاری اسکولوں کے طلبہ کو شامل کیا جن کا تعلق کم آمدنی والے گھرانوں سے تھا۔

پانچ سالہ مطالعے کے دوران تحقیق کاروں کی ٹیم نے پری اسکول سے چوتھی جماعت تک بچوں کی تعلیمی کارکردگی کی نگرانی کی اور پری اسکول اور تیسری جماعت کے طلبہ میں توجہ اور کام کرنے کی میموری کا تعین کیا۔

مطالعے میں والدین کی معلومات کا تجزیہ شامل تھا اور یہ بھی دیکھا گیا کہ مطالعہ کی مدت کے دوران بچوں نے کتنی بار اسکول تبدیل کیا۔

نتائج کے مطابق بچوں نے پری اسکول سے تیسری جماعت کے درمیان اوسطاً 1.38 مرتبہ اسکول تبدیل کیا۔

ان میں سے صرف 14 فیصد بچے ایک ہی اسکول میں پانچ سال تک زیر تعلیم رہے تھے جبکہ 10 فیصد بچوں نے تین یا چار مرتبہ اسکول تبدیل کیا۔

تیسری جماعت کے اساتذہ کے مطابق کئی بار اسکول تبدیل کرنے والے بچوں نے اہم سوچنے کے ٹاسک پر اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔

محققین کے مطابق اگرچہ چوتھی جماعت میں ان بچوں کا ریاضی کے نتیجہ قابل قبول تھا لیکن اس کے باوجود اسکول کی تبدیلی ریاضی کے معیار پر پورا اترنے کے لیے ایک بڑا خطرہ تھی۔

پرفیسر ایلسن فریڈمین نے کہا کہ تجزیہ سے یہ بات سامنے آئی کہ ان بچوں میں ریاضی کے اسکور کی پیشن گوئی اوسطاً 10 پوائنٹس کے ارد گرد کم تھی ان بچوں کے مقابلے میں جو ایک ہی اسکول میں زیر تعلیم رہے تھے۔

پرفیسر ایلسن فریڈ مین نے امریکن سائیکولوجی ایسوسی ایشن کی پریس ریلیز میں کہا کہ اگرچہ مطالعہ اسکولوں کی تبدیلی سے بچوں کی قابلیت میں کمی کی طرف اشارہ نہیں کرتا ہے لیکن اس کے باوجود اگر اسکول کی تبدیلی کو روکا نہیں جاسکتا ہے تو پھر والدین کی طرف سے طالب علموں کو اسکول کی منتقلی سے پہلے پیشگی طور پر نئے اسکول کے حوالے سے دباؤ کے لیے تعاون فراہم کرنا بہت ضروری ہے۔

XS
SM
MD
LG