رسائی کے لنکس

logo-print

ہانگ کانگ: جمہوریت کے حق میں ہزاروں مظاہرین کی ریلی


چین نے سابقہ برطانوی کالونی (ہانگ کانگ) میں 2017ء تک انتخابات کرانے کا وعدہ کر رکھا ہے مگر ماہرین کہتے ہیں کہ اصل مسئلہ چین کی جانب سے اس بات کے تعین کا ہے کہ ان انتخابات میں کون کون حصہ لے سکتا ہے۔

بدھ کے روز ہانگ کانگ کی سڑکوں پر ہزاروں افراد نے مظاہرہ کیا اور چین پر دباؤ ڈالا کہ وہ ہانگ کانگ میں جمہوریت کو پوری طرح سے پنپنے دے۔

ہانگ کانگ میں چین کی جانب سے 2017 میں ہونے والے انتخابات کے نتائج پر اثرانداز ہونے کی کوششوں کے باعث ہانگ کانگ میں جمہوریت کے لیے آواز زیادہ بلند ہونے لگی ہے۔

چین نے سابقہ برطانوی کالونی (ہانگ کانگ) میں 2017ء تک انتخابات کرانے کا وعدہ کر رکھا ہے مگر ماہرین کہتے ہیں کہ اصل مسئلہ چین کی جانب سے اس بات کے تعین کا ہے کہ ان انتخابات میں کون کون حصہ لے سکتا ہے۔

مظاہرین نئے سال کے پہلے دن پر ’جمہوریت ریلی‘ میں شریک تھے اور انہوں ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ مظاہرین 2017ء میں ہانگ کانگ میں مکمل جمہوریت کی پاسداری کے لیے نعرے بازی کر رہے تھے۔ اس موقع پر مظاہرین کا کہنا تھا کہ 2017ء کے انتخابات میں چین کے ناقدین سمیت سبھی کو حصہ لینے کی اجازت ہونی چاہیئے۔

دوسری جانب چینی عہدیداروں اور بائیں بازو کے اخباروں نے اس خیال کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہانگ کانگ کے آئین کے تحت انتخابات میں نامزدگی کے لیے امیدواروں کو 1,200 رکنی الیکشن کمیٹی کی حمایت حاصل ہونی چاہیئے۔

ریلی میں شریک مظاہرین کا کہنا تھا کہ انہیں اس بارے میں اپنی آوازیں بلند کرنا ہوں گی اور انہیں (چین) کو باور کرانا ہوگا کہ وہ اپنی سوچ رکھتے ہیں اور ہانگ کانگ میں مکمل طور پر جمہوریت کا نفاذ چاہتے ہیں۔
XS
SM
MD
LG