رسائی کے لنکس

logo-print

تیونیسیا: سَدی بوزید میں فوج اور مظاہرین میں جھڑپیں


احتجاج کرنے والوں کا کہنا ہے کہ تیونسیا کے معتدل، حکمراں النھضہ پارٹی نے شدت پسندوں کی فنڈنگ یا حمایت بند کرنے کے لیے ضروری اقدام نہیں کیے

تیونیسیا کی فوج نے اُس چوک کو جانے والے تمام راستے بند کر دیے ہیں، جہاں متحارب احتجاجی مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں، اور بڑھتی ہوئی بے چینی کو قابو کرنے کے لیے علاقے کو ’فوجی زون‘ قرار دے دیا ہے۔

پیر کو دارالحکومت کے وسطی ’باردو چوک‘ پر مظاہرین کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں، جہاں تیونیسیا کی آئین ساز اسمبلی واقع ہے، اور فوج نے خاردار باڑ لگا کر علاقے کو سیل کردیا ہے۔

جنوبی شہر ’سَدی بوزید‘ ہنگامہ آرائی کا مرکز بنا ہوا ہے، جہاں تیونس کی پولیس نے میونسپل دفاتر کے باہر ہونے والی جھڑپوں کے بعد، سنگ باری کرنے والے حکومت مخالف مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی۔

گذشتہ ہفتے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ایک سیاستداں کے قتل کے بعد، اسلامی قیادت والی حکومت کو ہٹانے کی اپوزیشن کی زور پکڑتی ہوئی ہنگامہ آرائی کے نتیجے میں تناؤ میں اضافہ آیا ہے۔ چھ ماہ کے اندر اندر ہلاک ہونے والے وہ دوسرے سیاستداں تھے۔

احتجاج کرنے والوں کا کہنا ہے کہ تیونسیا کے معتدل، حکمراں النھضہ پارٹی نے شدت پسندوں کی فنڈنگ یا حمایت بند کرنے کے لیے ضروری اقدام نہیں کیے۔

یہ بے چینی ایسے وقت پیدا ہوئی جب عبوری آئینی اسمبلی کی طرف سے ایک نئے دستور کے مسودے کو مکمل کرنے میں کچھ ہی ہفتے باقی رہ گئے تھے۔

سیکولر حزب مخالف اب یہ مطالبہ کر رہی ہےکہ 217رکنی ایوان کو تحلیل کیا جائے۔ ستر قانون سازوں نے اسمبلی سے استعفیٰ دے دیا ہے اور اُنھوں نے اسمبلی کے دفاتر کے باہر دھرنہ دیا۔
XS
SM
MD
LG