رسائی کے لنکس

logo-print

لائبیریا: انتخابات میں ووٹروں کی شرکت 'خاصی کم'


ووٹروں کے لیے لازمی قرار دیا گیا تھا کہ وہ پولنگ اسٹیشن میں داخل ہونے پہلے اپنے ہاتھ اچھی طرح دھو کر آئیں، ان کا بخار چیک کیا جائے گا اور پھر ہر ووٹر دوسروں سے ایک میڑ کے فاصلے پر کھڑا ہو گا۔

مغربی افریقہ کے ایبولا وائرس سے متاثرہ ملک لائبیریا میں سینیٹ کے انتخابات میں لوگوں کی قابل ذکر حد تک کم تعداد ووٹ ڈالنے کے لیے نکلی جب کہ ہفتہ کو پولنگ کے موقع پر طبی کارکن بھی پولنگ اسٹیشنوں پر موجود رہے۔

عہدیداروں نے ووٹنگ کے لیے آنے والوں کے لیے یہ لازمی قرار دیا تھا کہ وہ عمارتو ں کے اندر داخل ہونے سے پہلے اپنے ہاتھ اچھی طرح دھو کر آئیں، ان کا بخار چیک کیا جائے گا اور پھر ہر ووٹر دوسروں سے ایک میڑ کے فاصلے پر کھڑا ہو گا۔

ناقدین نے اس بارے میں سوال اٹھائیں ہیں کہ ایبولا کے خطرے کے پیش نظر کیا انتخابات محفوظ طریقے سے منعقد کیے جا سکتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت یہ کہہ چکا ہے کہ اس وبا سے شدید متاثر ہونے والے تین ملکوں لائبیریا، گنی، سیرالیون میں 7400 ,سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ سب سے زیادہ ہلاکتیں یعنی تین ہزار تین سو، لائبیریا میں ہوئیں اگرچہ وہاں نئے سامنے آنے والے کیسوں کی تعداد کم ہورہی ہے۔

اُن تین ملکوں میں اب ایبولا سے متاثر ہونے والوں کی تعداد 19,031 ہو گئی ہے۔

لائبیریا میں 15 سینیٹروں کو منتخب کرنے لیے بیس لاکھ سے بھی کم اہل ووٹر تھے اور یہاں ہر کاؤنٹی سے ایک سینیٹر کو منختب ہونا ہے۔

عہدیداروں کا کہنا ہے کہ سرکاری نتائج اتوار تک سامنے آ سکتے ہیں۔

دوسری طرف اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، بان کی مون ایبولا سے نمٹنے کی کوششیں کرنے والے تین افریقی ممالک کا دورہ مکمل کر رہے ہیں۔

ہفتے کو گنی میں، اُنھوں نے صدر اَلفا کونڈے اور وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی دیکھ بھال کرنے والے کچھ طبی کارکنوں سے ملاقات کی۔ اس کے بعد وہ وہ مالی کے درالحکومت باماکو کے لیے روانہ ہو گئے۔

اس دورے کے دوران بان کی مون نے اس امید کا اظہار کیا کہ ایبولا کو روکا جا سکتا ہے تاہم انہو ں نے تمام مغربی افریقی ممالک پر زور دیا کہ وہ وائرس کے خلاف چوکس رہیں۔

XS
SM
MD
LG