رسائی کے لنکس

logo-print

ٹوئیٹر کا خواتین ملازمین کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ


سان فرانسسکو میں قائم اس کمپنی نے کہا ہے کہ وہ ایسی برادریوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد کو 10 فیصد سے بڑھا کر 11 فیصد کرے گی جن کی نمائندگی اس کی افرادی قوت میں کم ہے۔

سماجی رابطے کے ادارے ٹوئیٹر نے اگلے برس کے آخر تک کمپنی کے ملازمین میں خواتین کی تعداد 34 سے 35 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کمپنی نے اپنے بھرتی کے اہداف کے ساتھ جو اعداد و شمار جاری کیے ان سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ کی دوسری بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی طرح اس کے ملازمین کی اکثریت سفید فام اور ایشیائی مردوں پر مشتمل ہے۔

سان فرانسسکو میں قائم اس کمپنی نے کہا ہے کہ وہ ایسی برادریوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد کو 10 فیصد سے بڑھا کر 11 فیصد کرے گی جن کی نمائندگی اس کی افرادی قوت میں کم ہے۔

ٹوئیٹر نے یہ بھی کہا کہ وہ خواتین اور کم نمائندگی والی برادریوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد تکنیکی اور قائدانہ کردار والی پوسٹوں پر بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

ملازمین میں تنوع اور شمولیت کے شعبے میں ٹوئیٹر کی نائب صدر جینٹ فان ہوئسے نے اپنے بلاگ پر کہا کہ ’’ہم اپنی کمپنی کے ملازمین میں ٹوئیڑ استعمال کرنے والے متنوع صارفین کی عکاسی کرنا چاہتے ہیں۔‘‘

’’ہم کمپنی کی مختلف سطحوں پر ملازمین میں تنوع بڑھانے کے اہداف پر پہلے ہی کام کرتے رہے ہیں مگر مجھے یہ کہتے ہوئے بہت خوشی ہو رہی ہے کہ اب ہم پوری کمپنی کے لیے تنوع بڑھانے کے اہداف مقرر کر رہے ہیں۔‘‘

ٹوئیٹر نے کہا ہے کہ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے وہ ان تنظیموں کو شریک کرے گی جو کم نمائندگی والی برادریوں کو کیریر کے بارے میں رہنمائی فراہم کرتی ہیں اور اس سال ایسے کالجوں سے ملازمین بھرتی کرے گی جہاں سیاہ فام اور ہسپانوی نژاد افراد پڑھتے ہیں۔

دنیا بھر میں ٹوئیٹر کے ملازمین کی تعداد 4,100 ہے۔

XS
SM
MD
LG