رسائی کے لنکس

logo-print

شمالی و جنوبی کوریا کا کشیدگی کے باوجود مشترکہ تقریبات کے انعقاد پر اتفاق


حال ہی میں سیول نے کئی مصالحتی اقدامات کیے ہیں جن میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی جانے والی امداد میں اضافہ اور پیانگ یانگ کے ساتھ رابطوں پر پابندی میں نرمی شامل ہے

شمالی اور جنوبی کوریا نے دونوں ممالک کی جانب سے جاری کیے گئے ایک تاریخی اعلامیے کی سالگرہ کے موقع پر ایک تقریب کا اہتمام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ بات جنوبی کوریا میں اس تقریب کی منتظم کمیٹی نے بتائی۔

نجی تنظیموں پر مشتمل اس کمیٹی کے نمائندوں نے چین میں اس ہفتے شمالی کوریا سے تعلق رکھنے والے اپنے ہم منصبوں سے ملاقات کی۔ طرفین نے سیول میں 15 جون کے اعلامیے کی پندرھویں سالگرہ کے موقع پر 14 سے 16 جون تک ایک تقریب پر اتفاق کیا۔ اس اعلامیے پر دونوں ممالک نے 2000 میں ایک بین الکوریا سربراہ اجلاس میں دستخط کیے تھے۔

اس اعلامیے میں بنیادی طور پر یہ کہا گیا تھا کہ قومی اتحاد نو کا مسئلہ کوریائی قوم کو آزادانہ طور پر خود حل کرنا چاہیئے۔

طرفین نے اگست میں جاپانی نوآبادیاتی حکمرانی سے کوریا کی آزادی کی سترویں سالگرہ کی مشترکہ تقریبات کے انعقاد پر بھی اتفاق کیا۔ سیول اور پیانگ یانگ ان دو سالگراؤں کے درمیانی عرصے میں ایک سلسلۂ تقریبات منعقد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

سیول میں کچھ تجزیہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پیانگ یانگ ان تقریبات کو پراپیگنڈا کے لیے استعمال کرے گا۔ جنوبی کوریا کی وزارتِ اتحاد، جو بین الکوریائی امور سنبھالتی ہے، نے کہا ہے کہ حکومت ان تقریبات کے انعقاد کی اجازت دے گی جو دونوں کوریاؤں کے درمیان یگانگت کی بحالی اور بین الکوریائی تعلقات کی بہتری میں معاون ثابت ہوں گی۔

حال ہی میں سیول نے کئی مصالحتی اقدامات کیے ہیں جن میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی جانے والی امداد میں اضافہ اور پیانگ یانگ کے ساتھ رابطوں پر پابندی میں نرمی شامل ہے، مگر شمالی کوریا نے ان اقدامات کا خیر مقدم نہیں کیا۔

اس ہفتے ہونے والے اتفاق سے پہلی مرتبہ محسوس کیا جا رہا ہے کہ پیانگ یانگ شاید سیول کے اقدامات کا مثبت جواب دے۔ تاہم کچھ لوگ اب بھی اس شبہے کا شکار ہیں کہ سیول کی کوششیں دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری لا سکتی ہیں۔

بین الکوریائی تقریبات کے اعلان سے چند گھنٹے قبل شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کو ’’بغیر پیشگی اطلاع کے حملوں‘‘ کی تنبیہہ کی تھی۔ شمالی کوریا کا دعویٰ ہے کہ جنوبی کوریا کی بحریہ کے جہاز اس کے پانیوں میں کئی بار داخل ہو چکے ہیں۔ جنوبی کوریا نے ان دعووں کی تردید کی اور خود بھی ایک تنبیہہ جاری کی ہے۔

XS
SM
MD
LG