رسائی کے لنکس

logo-print

چین: تہران کے جوہری پروگرام پر تشویش کا اظہار


منگل کے روز برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے چین پرایران کے جوہری پروگرام کی بنا پر اس کے خلاف پابندیوں کے سلسلے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دوسرے ارکان کے ساتھ شامل ہونے پر زور دیا ہے۔

چینی وزیر خارجہ یانگ جیے چی کے ساتھ مذاکرات کے دوران برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے بیجنگ کو ایران کے خلاف پابندیوں کی حمایت کرنے میں بین الاقوامی کمیونٹی کے ساتھ شمولیت پر قائل کرنے کی کوشش کی۔

اس ملاقات کے بعد مسٹر یانگ نے نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے صرف یہ کہا کہ چین کو تہران کے جوہری پروگرام پر تشویش ہے۔

مسٹر یانگ نے کہا کہ بیجنگ ایران کے معاملے پر عالمی طاقتوں کے ساتھ مزید قریبی طورپر کام کرے گا ۔

لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ چین اب بھی یہی سمجھتا ہے کہ آگے بڑھنے کا بہترین طریقہ سفارت کاری ہی ہے اور انہوں نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام پر اختلاف رائے کا حل پابندیاں نہیں ہیں۔

بیجنگ ایران کو اپنا ایک اتحادی سمجھتا ہے اور وہاں سے تیل کی بڑے پیمانے کی درآمد پر انحصار کرتا ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ ملی بینڈ نے ایران کے معاملے پر اپنے ملک کی بڑھتی ہوئی تشویش کا اظہار کیا ۔ ایران کے بارے میں مغرب کا خیال ہے کہ وہ خفیہ طریقے سے جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کررہاہے۔

برطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ میں ایرانی حکومت کو یہ واضح پیغام بھیجنے کے لیے چین، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ اہم ارکان اور جرمنی کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہوں کہ اس کے ساتھ جوہری امور پر اسی صورت میں ایک عام ملک کی طرح برتاؤ کیا جاسکتا ہے اگر وہ بھی کسی عام ملک کا سا طرزعمل اختیار کرے۔

بیجنگ اور لندن کے درمیان گذشتہ سال کے آخر میں آب و ہوا کی تبدیلی، ایرانی جوہری پروگرام اور برطانوی شہری اکمل شیخ کی سزائے موت پر کشیدگی پیدا ہونے کے بعدسے ملی بینڈ کا چین کا یہ تین روزہ دورہ دونوں ملکوں کے درمیان پہلا اعلیٰ سطحی رابطہ ہے۔

ملی بینڈ نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے چین کے ساتھ انسانی حقوق کے معاملات بھی اٹھائے ، خاص طورپر سرگرم وکیل گاؤ زی شنگ کا معاملہ۔

چینی حکومت شنگ کے خاندان، انسانی حقوق کی تنظیموں اور حکومتوں کی باربار کی درخواستوں کے باوجود ان کا اتا پتا بتانے سے انکار کررہی ہے ۔

XS
SM
MD
LG