رسائی کے لنکس

logo-print

انسدادِ دہشت گردی، برطانیہ کی پاکستان کو 50لاکھ پونڈ امداد


برطانوی وزیر خارجہ، ولیم ہیگ نے گذشتہ روز دارالعوام میں پاکستان میں انسداد دہشت گردی سے متعلق امدادی پروگرام کا ایک تحریری نچوڑ پیش کیا گیا

برطانوی ارکان پارلیمنٹ کو آگاہ کیا گیا ہے کہ پاکستان اور صومالیہ میں انسداد دہشت گردی کی کاروائیوں کو فروغ دینے کے لیے، برطانیہ تحفتاً پانچ ملین پونڈ کی امداد فراہم کرے گا۔

وزیر خارجہ ولیم ہیگ کی جانب سے گذشتہ روز دارالعوام میں پاکستان میں انسداد دہشت گردی سے متعلق امدادی پروگرام کا تحریری خاکہ پیش کیا گیا۔

وزرات خارجہ کے دفتر کے مطابق، پاکستان دہشت گردی کے سنگین خطروں سے دوچار ہے اور برطانیہ پاکستان میں انسداد دہشت گردی کی صلاحیتوں کو موٴثر اور پائیدار بنانے کے لیے پرعزم ہے، تاکہ حکومت کی تعین کردہ انسداد دہشت گردی کے مقاصد کو آگے بڑھایا جا سکے۔ اس نقطہٴنظر کے تحت، برطانیہ شراکت دار ملکوں میں دہشت گردی کے خطرات کی روک تھام کے لیے مدد فراہم کرتا ہے جو انسانی حقوق کے متفقہ عالمی معیار کے مطابق ہوں۔

ولیم ہیگ نے ایوان کے سامنےاخراجات کا خاکہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ 35 لاکھ پونڈ کی امداد پاکستانی پولیس، سول ڈیفینس اور ملٹری کی مدد کے لیے دی جائے گی، جبکہ بقیہ 32 لاکھ پونڈ آلات، سازوسامان اور تربیت کو پورا کرنے پر خرچ کئے جائیں گے۔

تحائف کے اخراجات کو حکومت کے انسداد دہشت گردی کے پروگرام سے پورا کیا جائے گا جس میں ڈنمارک کی حکومت 750,000 پونڈ کے اخراجات لی لاگت برداشت کرے گی ۔

ایوان کو بتایا گیا کہ 21 لاکھ پونڈ کا سامان آتشگیر مواد کا مقابلے کرنے والی ’کِٹ‘ پر مشتمل ہوگا، جس میں چھان بین کے آلات کی مالیت 7 لاکھ پونڈ ہوگی اور 3 لاکھ پونڈ گاڑیوں اور 120,000پونڈ اسٹوریج اور پروازوں کے لیے مقرر کیا جائے گا۔

ولیم ہیگ نے کہا کہ ٹریننگ کا مقصد پاکستانی شہری دفاع اور فوجی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے، جبکہ سامان اور تربیت کے پیکچ ملٹری اور ان قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کئے جائیں گے جو دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے قابل قدر صلاحیتوں کے حامل ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ان ملکوں میں مقامی طور پر دہشت گردی کی کارروائیوں پر قابو پانے کا مقصد دراصل مسئلے کی جڑ کو اہداف بنانا ہے، تاکہ پاکستان سمیت برطانیہ کے خلاف دہشت گردی کے حملے کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ تحائف کی منظوری کے لیے ایوان کے پاس 14 دن کا وقت میسر ہے۔ اگر اس دوران کسی رکن کی جانب سے اعتراض سامنے نہیں آیا تو امداد روانہ کرنے کی اجازت دے دی جائے گی۔
XS
SM
MD
LG