رسائی کے لنکس

logo-print

شام سے نقل مکانی کرنے والے بچوں کی تعداد 10 لاکھ ہو گئی


اقوام متحدہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ نقل مکانی کرنے والے بچوں میں سات لاکھ اڑسٹھ ہزار بچے ایسے ہیں جن کی عمر گیارہ سال سے بھی کم ہے۔

اقوام متحدہ کے بچوں اور پناہ گزینوں کے اداروں کے مطابق شام سے نقل مکانی پر مجبور ہو کر دوسرے ملکوں میں جانے والے بچوں افراد کی تعداد دس لاکھ ہو گئی ہے جب کہ ملک کے اندر بھی مزید بیس لاکھ بچے نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

عالمی تنظیم کا ادارہ برائے اطفال اور پناہ گزینوں کے ادارے ’یو این ایچ سی آر‘ نے بتایا کہ شام سے نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کے بچے لبنان، اردن، ترکی، عراق اور مصر کے علاوہ شمالی افریقہ اور یورپ میں خود کو محفوظ سمجھ رہے ہیں۔


تاہم ان اداروں کا کہنا ہے کہ ان پناہ گزینوں کو بچوں کی جبری مشقت، کم عمری میں شادیوں اور ممکنہ طور پر جنسی طور پر ہراساں کرنے اور انسانی سمگلنگ جیسے مسائل کا سامنا کرنے کا خدشہ لاحق ہے۔

اقوام متحدہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ نقل مکانی کرنے والے بچوں میں سات لاکھ اڑسٹھ ہزار بچے ایسے ہیں جن کی عمر گیارہ سال سے بھی کم ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق دس لاکھ کی تعداد میں شمار ہونے والے ہر بچے کا نام کے ساتھ اندراج کیا گیا۔
XS
SM
MD
LG