رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان میں شہری ہلاکتوں میں 23 فیصد اضافہ: اقوام متحدہ


سال کے پہلے چھ ماہ میں 1319 افغان شہری ہلاک اور 2533 زخمی ہوئے جو کہ گزشتہ سال اسی عرصے کے دوران ہونے والی ہلاکتوں میں 14 فیصد اور زخمیوں کی تعداد میں 28 فیصد اضافے کو ظاہر کرتے ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں رواں برس کے پہلے چھ ماہ میں شہری ہلاکتوں میں 23 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

افغانستان میں عالمی ادارے کے مشن ’یو این اے ایم اے‘ نے بدھ کو جاری کردہ اپنی ششماہی رپورٹ میں بموں کو استعمال میں اضافے کو شہری ہلاکتوں میں اضافے کی وجہ بتایا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سال کے پہلے چھ ماہ میں 1319 افغان شہری ہلاک اور 2533 زخمی ہوئے جو کہ گزشتہ سال اسی عرصے کے دوران ہونے والی ہلاکتوں میں 14 فیصد اور زخمیوں کی تعداد میں 28 فیصد اضافے کو ظاہر کرتے ہیں۔

ادارے کا کہنا ہے کہ یہ اعداد وشمار گزشتہ سال شہری ہلاکتوں میں ہونے والی کمی کے برعکس 2011ء جیسی صورتحال کی واپسی کو ظاہر کرتے ہیں جب شہری اموات اور زخمیوں کی تعداد بہت زیادہ ریکارڈ کی گئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق ہلاک و زخمی ہونے والوں میں سے 74 فیصد عسکریت پسندوں اور نو فیصد سرکاری فورسز کی کارروائیوں میں جب کہ 12 فیصد دوطرفہ جھڑپوں کی زد میں آنے سے ہوئے۔

افغانستان میں تعینات بین الاقوامی اتحادی افواج ’ایساف‘ نے اس رپورٹ میں پیش کیے اعداد و شمار سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ رواں سال ہونے والے 90 فیصد شہری جانی نقصانات کے ذمہ دار عسکریت پسند ہیں۔

ایساف نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ معصوم افغان شہریوں کی حفاظت ’’ ایک مقدس اعتماد اور ذمہ داری ہے جسے اتحادی افواج سنجیدگی سے لیتے ہیں۔‘‘

یو این اے ایم اے میں انسانی حقوق یونٹ کے ڈائریکٹر جیورجٹ گینن کا کہنا ہے کہ 2012ء میں ہلاک و زخمی ہونے والوں کی بڑھتی ہوئی تعداد میں خواتین اور بچوں کی تعداد میں اضافہ ’’خاص طور پر پریشان کن‘‘ ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’تلخ حقیقت‘‘ یہ ہے کہ رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں خواتین اور بچوں کی ہلاکتوں میں 38 فیصد اضافہ ہوا۔

ادارے نے ایسے حملوں کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے کہ جس میں شہری ہلاکتوں کا خدشہ ہو۔ اس کا کہنا ہے کہ بلا امتیاز اور دانستہ طور پر شہریوں کو نشانہ بنایا جانا ’’ بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی خلاف ورزی ہے اور یہ جنگی جرائم کے زمرے میں آسکتا ہے۔‘‘
XS
SM
MD
LG