رسائی کے لنکس

logo-print

بن غازی حملہ، معاملے کو ’ تماشہ‘ نہ بنایا جائے: صدر اوباما


ریپبلیکن پارٹی کے ارکان کا الزام ہے کہ اصل نکتوں کو اِس لیے حذف کردیا گیا تھا، تاکہ گذشتہ برس کی انتخابی مہم کے دوران صدر کو کوئی مشکل پیش نہ آئے

امریکی صدر براک اوباما نے ستمبر میں ہونے والےباغیانہ حملے کے بارے میں اٹھائے جانے والے سوالات کو، جس میں سفیر کرسٹوفر اسٹیونز اور تین دیگر امریکی ہلاک ہوئے، مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اِن کے پیچھے ’سیاسی محرکات‘ کارفرما ہیں۔

دورے پر آئے ہوئے برطانوی وزیر اعظم، ڈیوڈ کیمرون کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں مشترکہ اخبار ی کانفرنس کے دوران، مسٹر اوباما نے بن غازی کے حملے سے نمٹنے کے بارے میں ریپبلیکن پارٹی کی طرف سے تنقید کو ’ایک سیاسی تماشہ‘ قرار دیا۔

صدر سے اِن انکشافات کے بارے میں سوال کیا گیا، جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ خفیہ اداروں کی طرف سے تحریر کردہ کلمات کو بعد میں تبدیل کرکے اُن میں سے ’اسلامی شدت پسندوں‘ سے متعلق حوالہ جات کو خارج کر دیا گیا تھا۔

ریپبلیکن پارٹی کے ارکان کا الزام ہے کہ اصل نکتوں کو اِس لیے حذف کردیا گیا تھا، تاکہ گذشتہ برس کی انتخابی مہم کے دوران صدر کو کوئی مشکل پیش نہ آئے۔

مسٹر اوباما نے کہا کہ حملے کے بعد یہ واضح نہیں ہو پایا آیا اِس کا ذمہ دار کون ہے، اور یہ کہ کوئی بات چھپائی نہیں جارہی۔

اُنھوں نے کہا کہ دھیان اس بات پر مرکوز رہنا چاہیئے کہ ایسا واقعہ پھر کبھی واقع نہ ہو، اور یہ کہ دنیا بھر میں کام کرنے والے سفارت کاروں کو مناسب طور پر تحفظ فراہم رہے۔
XS
SM
MD
LG