رسائی کے لنکس

logo-print

بحیرہ جنوبی چین واقعہ، چین کا طرزِ عمل ’غیر ذمہ دارانہ‘ تھا: ہیگل


امریکی اہل کاروں کا کہنا ہے کہ ’یو ایس ایس کوپینس‘ نے ٹکر سے بچنے کی کوشش کی، جب کہ چینی جہاز اُس کے سامنے کھڑا رہا

امریکی وزیرِ دفاع چَک ہیگل نے کہا ہے کہ اِسی ماہ بحیرہٴجنوبی چین میں امریکی بحری جہاز کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے دوران چین کا طرِز عمل ’مدد نہ کرنے والا‘ اور ’غیر ذمہ دارانہ‘ نوعیت کا تھا۔

ہیگل نے یہ بیان جمعرات کو پینٹاگان میں ایک اخباری کانفرنس کے دوران دیا۔

وہ پانچ دسمبر کو پیش آنے والے واقعے کا حوالہ دے رہے تھے، جِس میں ایک ’امریکی میزائل کُروزر‘ کی ایک چینی جنگی جہاز سے ٹکر ہوتے ہوتے رہ گئی۔

امریکی اہل کاروں کا کہنا ہے کہ ’یو ایس ایس کوپینس‘ نے ٹکر سے بچنے کی کوشش کی، جب کہ چینی جہاز اُس کے سامنے کھڑا رہا۔

ہیگل نے کہا کہ اِس واقعے سے اِس ضرورت کی نشاندہی ہوتی ہے کہ خطے میں کسی امکانی جھڑپ سے بچنے کے لیے، چین اور امریکی فوجوں کے درمیان بالکل واضح ’پروٹوکول‘ بالکل ہونا چاہئیے۔

امریکہ نے کہا ہے کہ اُس کا جہاز بین الاقوامی پانیوں میں تھا، جب چینی جہاز سے ٹکر سے بچنے کے لیے اُسے بچاؤ کی کارروائی کرنی پڑی، جو چین کے نئے بحری بیڑے، ’لیاننگ‘ کے ساتھ ساتھ سفر پر تھا۔

چین کا کہنا ہے کہ ٹکر ہونے کے معاملے کا تدارک ’پروٹوکول پر سختی سے عمل کے باعث‘ ممکن ہوا۔

پینٹگان کی اخباری کانفرنس کے دوران، چیرمین آف یو ایس جوائنٹ چیفز آف اسٹاف، مارٹن ڈیمپسی نے کہا کہ فوجوں کی کسی جھڑپ سے بچنے کے لیے قوانین کے مسودے کو طے کرنے کی غرض سے دونوں ملکوں سے تعلق رکھنے والے فوجی عہدے دار ایک دوسرے سے اجلاس کرتے رہے ہیں۔
XS
SM
MD
LG