رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ میں صدارتی انتخابی مہم آخری مرحلے میں داخل


اوباما اور رومنی دونوں ہی پولنگ سے ایک روز قبل ایسی آٹھ ریاستوں کے 14 مقامات کا دورہ کر رہے ہیں جنہیں فیصلہ کن قرار دیا جارہا ہے۔-

امریکہ میں صدارتی انتخابی مہم اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے اور انتخاب سے ایک روز قبل پیر کو ڈیموکریٹ امیدوار اور موجودہ صدر براک اوباما اور ان کے ری پبلکن حریف مٹ رومنی ڈانوا ڈول ریاستوں کے ووٹرز کو اپنی جانب راغب کرنے کے لیے آخری زور لگا رہے ہیں۔

صدارتی انتخاب کے لیے ووٹنگ کا آغاز منگل کی صبح ہوگا لیکن اس سے قبل دونوں امیدواران ان ریاستوں کے طوفانی دورے کر رہے ہیں جہاں تازہ ترین جائزوں کے مطابق ووٹرز کی اکثریت تاحال یہ فیصلہ نہیں کر پائی ہے کہ انہیں اوباما یا رومنی میں سے کسے آئندہ چار برسوں کے لیے اپنا صدر منتخب کرنا ہے۔

اوباما اور رومنی دونوں ہی پولنگ سے ایک روز قبل ایسی آٹھ ریاستوں کے 14 مقامات کا دورہ کر رہے ہیں جنہیں فیصلہ کن قرار دیا جارہا ہے۔ ان ریاستوں میں اوہایو سرِ فہرست ہے جہاں دونوں امیدواران نے پولنگ کے آغاز سے چند گھنٹے قبل انتخابی جلسوں سے خطاب کیا اور رائے دہندگان کو قائل کرنے کی کوشش کی۔

اوہایو میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے صدر اوباما نے کہا کہ منگل کا انتخاب دو امیدواران یا دو جماعتوں کے درمیان نہیں بلکہ یہ امریکہ کے بارے میں دو مختلف نظریات میں سے ایک کے انتخاب کا دن ہے۔

امریکی ریاست میساچوسٹس کے سابق گورنر اور ری پبلکن جماعت کے صدارتی امیدوار مٹ رومنی نے بھی اوہایو کا دورہ کیا جب کہ پنسوکانیا میں بھی اپنے لگ بھگ 20 ہزار حامیوں کے جلسے سے خطاب کیا۔

اپنے خطاب میں مٹ رومنی کا کہنا تھا کہ اس بارے میں کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ درست قیادت کے سائے تلے امریکہ ایک بار پھر عروج کی جانب جائے گا۔

دونوں صدارتی امیدوار انتخابی مہم کی سرگرمیوں کے دوران میں اپنے حامیوں کو جوش دلانے کے ساتھ ساتھ اقلیتوں اور کسی جماعت سے تعلق نہ رکھنے والی غیر جانبدار خواتین ووٹرز کی حمایت حاصل کرنے کے لیے بھی سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں۔

امریکہ کی 34 ریاستوں میں دو کروڑ 90 لاکھ سے زائد ووٹرز 'ارلی ووٹنگ' کے دوران میں پہلے ہی اپنے ووٹ ڈال چکے ہیں لیکن ان کی گنتی منگل ہی کو کی جائے گی۔
XS
SM
MD
LG