رسائی کے لنکس

امریکہ: رواں سال کے 20ویں قیدی کی سزائے موت پر عمل درآمد


امریکہ: رواں سال کے 20ویں قیدی کی سزائے موت پر عمل درآمد

امریکی ریاست ٹیکساس میں عدالت سے سزا یافتہ ایک مجرم کو موت کی سزا دے دی گئی ہے جس کےبعد رواں برس امریکہ میں سزائے موت پانے والے قیدیوں کی تعداد 20 ہوگئی ہے۔

ٹیکساس کی ایک جیل میں قید 42 سالہ گے لینڈ بریڈ فورڈ کو ایک مقامی عدالت نے 1988ء میں ایک جنرل اسٹور میں ڈکیتی کے دوران سکیورٹی گارڈ کو گولی مار کر ہلاک کرنے کے جرم میں سزائے موت سنائی تھی۔

مذکورہ ڈکیتی کے دوران بریڈفورڈ اور اس کا ایک ساتھی دکان سے صرف 7 ڈالرز چرا کو فرار ہوگئے تھے تاہم بعد ازاں انہیں گرفتار کرلیا گیا تھا۔ موت کی سزا پر عمل درآمد سے قبل بریڈ فورڈ نے 22 برس قید کی سزا بھی کاٹی۔

ٹیکساس کے حکام کے مطابق مجرم کی سزائے موت پر عمل درآمد کے لیے اس بار ریاستی حکام کی جانب سے تاریخ میں دوسری بار جانوروں کو آسان موت دینے کے لیے استعمال کی جانے والی دوا 'پینٹو باربیٹل' کا استعمال کیا گیا۔

حکام کے مطابق مذکورہ دوا کے استعمال کی بنیادی وجہ امریکہ میں 'تھایو پینٹل' نامی اس دوا کی کمیابی ہے جو تین دواؤں کے اس مجموعے میں شامل ہوتی ہے جسے مجرموں کو دی جانے والی سزائے موت پر عمل درآمد کے لیے انجیکشن کے ذریعےان کے جسم میں داخل کیا جاتا ہے۔

امریکہ میں موت کی سزا 1976ء میں بحال کی گئی تھی اور اس کے بعد سے اب تک ریاست ٹیکساس میں کسی بھی دوسری امریکی ریاستوں کے مقابلے میں چار گنا زیادہ قیدیوں کو عدالتی احکامات پر موت کی نیند سلایا جاچکا ہے۔

ریاست میں رواں ماہ مزید تین قیدیوں کی سزائے موت کے حکم پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG