رسائی کے لنکس

logo-print

کانگریس جوہری سمجھوتے کا جائزہ لے سکتی ہے، بل منظور


اس قانون سازی کے تحت معاہدے کا جائزہ لینے، یا پھر اسے مسترد کرنے کے فیصلے کے لیے کانگریس کے پاس 30 دِن کا وقت ہوگا

امریکی سینیٹ نے ایک قانون سازی کی منظوری دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کانگریس کو ایران کے جوہری پروگرام پر روک لگانے کے مقصد سے طے پانے والے کسی بین الاقوامی سمجھوتے کا جائزہ لینے اور ممکنہ طور پر اُسے مسترد کرنے کا اختیار ہوگا۔

سینیٹ میں اس اقدام کے حق میں 98 اور مخالفت میں ایک ووٹ پڑا۔ یہ بل اب ایوان نمائندگان کے سامنے پیش ہوگا، جس پر اگلے ہفتے غور متوقع ہے۔

ابتدا میں صدر براک اوباما ایران کے جوہری ہتھیار تشکیل دینے کی صلاحیت کو محدود کرنے کے معاملے پر امریکہ اور پانچ عالمی طاقتوں کے ایران کے ساتھ مذاکرات کے نتیجے میں طے پانے والے معاہدے پر کانگریس کے جائزے کی اجازت کے خلاف تھے۔ تاہم، اُنھوں نے کہا ہے کہ اگر کانگریس اس کی حتمی منظوری دیتی ہے تو وہ موجودہ بِل پر دستخط کرنے پر تیار ہیں۔

اس قانون سازی کی رو سے معاہدے کا جائزہ لینے، یا پھر اسے مسترد کرنے کے فیصلے کے لیے کانگریس کے پاس 30 دِن کا وقت ہوگا۔

روس، چین، جرمنی، فرانس، برطانیہ اور امریکہ کے ساتھ ایران کے مذاکرات اب حتمی سطح پر ہیں، جس کی مدد سے اس کے جوہری پروگرام میں روک لگائی جا سکتی ہے۔
اس کے عوض، اقوام متحدہ، امریکہ اور یورپی یونین کے ملکوں کی جانب سے ایران پر عائد کی گئی معاشی تعزیرات میں نرمی برتی جائے گی۔ لیکن، کانگریس کے جائزے کی مدت کے دوران، مسٹر اوباما ایران پر سے امریکی تعزیرات نہیں اٹھا سکیں گے۔

گذشتہ ماہ، ایران چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ سمجھوتے کے خد و خال پر متفق ہوا، اور مذاکرات کاروں نے کسی حتمی سمجھوتے تک پہنچنے کے لیے 30 جون کا ہدف مقرر کیا ہوا ہے۔

XS
SM
MD
LG