رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ: خفیہ راز افشا، معاملے کی چھان بین کا دفاع


وائٹ ہاؤس کی طرف سے تفتیش کا دفاع ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب گذشتہ برس اپریل اور مئی کے دوران خبر رساں ادارے ایسو سی ایٹڈ پریس کے نامہ نگاروں اور ایڈیٹروں کے ٹیلی فون کے ریکارڈ کے خفیہ حصول کی رپورٹ پر آوازِ احتجاج بلند ہوئی ہے۔

وائٹ ہاؤس نے اُس فوجداری چھان بین کا دفاع کیا ہے، جس کا مقصد یہ معلوم کرنا ہےکہ آیا وہ پوشیدہ سرکاری اطلاع کس طرح عام ہوئی جس سے متعلق خبر چھپنے کے باعث سی آئی اے کی طرف سے یمن میں القاعدہ کے بم حملے کی سازش کے خلاف کی جانے والی کارروائی رُک گئی۔

منگل کے روز ترجمان جے کارنی نے کہا کہ صدر براک اوباما اِس بات کے سختی سے قائل ہیں کہ صحافیوں کو یہ حق حاصل ہے کہ تفتیشی نوعیت کی خبروں کےلیے تگ و دو کریں۔ تاہم، کارنی نے کہا کہ صدر اِس بات کی ضرورت کو بھی محسوس کرتے ہیں کہ خفیہ معلومات کو صیغہِ راز میں ہی رہنا چاہیئے۔

وائٹ ہاؤس کی طرف سے تفتیش کا دفاع ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صحافیوں نے گذشتہ برس اپریل اور مئی کے دوران خبر رساں ادارے، ایسو سی ایٹڈ پریس کے نامہ نگاروں اور ایڈیٹروں کے ٹیلی فون کے ریکارڈ کے خفیہ حصول کی رپورٹ پر آوازِ احتجاج بلند کی ہے۔

’اے پی‘ نے مئی 2012ء میں یمن کے خلاف ہونے والی کارروائی سے متعلق ایک خبرجاری کی تھی۔

’امریکن سوسائٹی آف نیوزپیپر ایڈیٹرز‘ نے ریکارڈ کے حصول کو ’مجرمانہ‘ اور ’ناگوار‘ قرار دیا ہے، جب کہ اے پی کے منتظم اعلیٰ، گیری پروٹ نے کہا ہے کہ حکومت کے اِس اقدام کا ’کوئی جواز نہیں‘ ہے۔

امریکی آئین آزادی صحافت کی ضمانت دیتا ہے۔

تاہم، قانون کا نفاذ کرنے والے اعلیٰ امریکی عہدے دار، اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر نے کہا ہے کہ اے پی کو خفیہ اطلاع کی فراہمی کے باعث ’امریکی عوام کے مفادات کو خطرہ لاحق ہوا‘۔

ہولڈر نے کہا ہے کہ تفتیش کے عمل سے اُن کا کوئی واسطہ نہیں۔

اُنھوں نے اِس بات کا اظہار ایف بی آئی کے ساتھ ہونے والےایک انٹرویو میں کیا، جس میں راز افشاع ہونے کے بارے میں اُن سےپوچھا گیا تھا۔
XS
SM
MD
LG