رسائی کے لنکس

logo-print

مسافر طیارے پر حملے کا منصوبہ القاعدہ کی مدد سے تیار کیا گیا


مسافر طیارے پر حملے کا منصوبہ القاعدہ کی مدد سے تیار کیا گیا

امریکی فوجی کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹریس نے کہا ہے کہ 25 دسمبر کو کرسمس کے موقع پر امریکہ جانے والے ایک مسافر طیارے کوبم دھماکے سے تباہ کرنے کا منصوبہ تیار کرنے میں یمن میں مقیم دہشت گردوں نے مدد کی تھی ۔

بغداد میں جمعہ کو صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ مسافر طیارے پر ناکام حملے سمیت امریکہ اور یمن کے مابین ملک میں موجود القاعدہ کی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات کا تبادلہ جاری ہے ۔

امریکی سنٹرل کمان کے سربراہ نے کہا کہ یمن میں حکام نے القاعدہ کے خلاف نمایاں کارروائیاں کی ہیں جن میں سے بعض خود کش حملوں کے سلسلے کو روکنے کا باعث بھی بنی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ اس ضمن میں یمن کی مدد کرر ہا ہے لیکن اس کے ہمسایہ ملکوں نے بھی ان کوششوں میں اہم کردارادا کیا ہے۔

یمن میں القاعدہ نامی ایک تنظیم نے ایمسٹرڈیم سے امریکہ جانے والے مسافر طیارے پر حملہ کرنے کی سازش تیار کر نے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کارروائی القاعدہ کے عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن میں امریکہ کی طرف سے یمن کی مدد کرنے کے جواب میں کی گئی۔

مسافر طیارے میں بم دھماکے کرنے کی کوشش میں جس 23 سالہ شخص کو گرفتار کیا گیا ہے اس کا نام عمر فاروق عبدالمطلب ہے اور اس کا تعلق نائجیریا سے ہے ۔ زیر حراست اس مشتبہ دہشت گرد نے امریکی تفتیش کاروں کو بتایا ہے کہ اس نے تربیت اور بارود یمن سے حاصل کیے تھے۔ خیال رہے کہ یمن القاعدہ تنظیم کے مفرور لیڈر اسامہ بن لادن کا آبائی ملک ہے۔

یمنی حکام نے حالیہ دنوں میں اپنے ہاں ا س تنظیم سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں کے خلاف زمینی اور فضائی حملے کیے ہیں جن میں متعدد کو ہلاک اور گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

یمن کی حکمران جماعت کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ حکومت ملک میں القاعدہ کے خلاف امریکہ کے تعاون سے فوجی کارروائیا ں جار ی رکھے گی ۔

XS
SM
MD
LG