رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی اخبارات سے: بدعنوانی، عالمی مسئلہ


’تمام ملکوں میں ہر چار میں سے ایک شخص نے کام کرانے کے لئے رشوت دینے کا اعتراف کیا‘: ٹرانس پیرینسی انٹر نیشنل کی تازہ رپورٹ میں انکشاف

رواں سال کے دوران، دنیا بھر میں کرپشن یا رشوت ستانی کس رفتار سے پھیل رہی ہے، اِس کا اندازہ برلن میں قائم ٹرانس پیرینسی انٹر نیشنل ادارے کی تازہ رپورٹ سے ہوتا ہے، جو’ لاس اینجلیس ٹائمز ‘ اخبار کے مطابق، 100 سے زیادہ ملکوں میں لئے گئے جائزے پر مبنی ہے۔

رشوت ستانی کی سب سے زیادہ شرح افریقہ کے دو ملکوں لائبیریا اور سیارا لیون میں پائی گئی جہاں اس جائزے میں شرکت کرنے والوں میں سے علی الترتیب 75اور 84فیصد نے کہا کہ اُنھوں نے رشوت دے کر کام کرایا ہے۔ تمام ملکوں میں سے ہر چار میں سے ایک شخص نے کام کرانے کے لئے رشوت دینے کا اعتراف کیا۔

اِس کے برعکس، آسٹریلیا ، ڈنمارک،فن لینڈ، اور جاپان میں صرف ایک فی صد نے کہا کہ اُنھوں نے رشوت دی ہے ۔ یہاں امریکہ میں رشوت دینے والوں کی شر ح سات فی صد نکلی۔رشوت کی ایک غیر معمولی مثال زِمبابوے کی تھی جہا ں، اِس رپورٹ کے مطابق، ایک اسپتال میں زچگی کے دوران بچہ جننے والی عورت سے ہر چیخ کےلئے پانچ پونڈ کا جرمانہ وصول کیا جاتا ہے، جب کہ بنگلہ دیش میں عمارتوں کی تعمیر میں بد عنوانیاں برتی جاتی ہیں۔ باور کیا جاتا ہے کہ یہی بدعنوانیاں ،سلے سلائے کپڑے تیار کرنےوالے ایک بڑے کارخانے کی ناقص عمارت کے گرنے کا باعث بنیں۔ اور اس حادثے میں 1000سے زیادہ انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔

جِن اداروں کو اِن بدعنوانیوں پر قابو پانے کی ذمّہ داری سونپی گئی ہے، رپورٹ کے مطابق وُہ خود کرپشن کے مرتکب پائے گئے ہیں۔ 36 ملکوں میں پولیس والے ہی سب سے زیادہ رشوت خور پائے گئے، جب کہ 20 ملکوں میں عدلیہ بھی بدعنوان پائی گئی۔

رپورٹ کے مطابق 51 ملکوں میں، جن میں امریکہ شامل ہے، سب سےزیادہ بد عنوان ادارے ان ملکوں کی سیاسی پارٹیاں پائی گئیں۔

امریکی قومی سلامتی کے ادارے کے سابق کارندے، ایڈورڈ سنووڈن کو وینیزویلا کے صدر نکولس مڈُورو کی جانب سے سیاسی پناہ کی دوبارہ پیش کش کی گئی ہے۔ اور’وال سٹریٹ جرنل‘ کے مطابق ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا سنووڈن نے یہ پیشکش قبول کی ہے یا نہیں۔

مسٹر مڈورو نے پہلےیہ پیشکش وینیزویلا کی ایک فوجی تقریب میں تقریر کرتےہوئے کی تھی ، جب اُنہوں نے امریکہ کی جاسوسی کی سرگرمیوں کا پردہ چاک کرنے پر مسٹر سنووڈن کی تعریف کی تھی اور کہا تھا کہ وینیزویلا کے لوگوں نے اِس نوجوان کوسیاسی پناہ دینےکا فیصلہ کیا ہے، کیونکہ وُہ امریکہ سے نہیں ڈرتے۔

اخبار کہتا ہے کہ لاطینی امریکہ کی کئی حکومتوں نے مسٹر سنووڈن کو سیاسی پناہ دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ لیکن، ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ماسکو کے شیری میتی ئےوو ہوائی اڈّے سے، جہاں وہ دو ہفتے سے زیادہ عرصے سے بغیر سفری دستاویزوں کے پھنسا ہوا ہے، وُہ کیونکر آگے کا سفر کر سکے گا۔

اخبار کہتا ہے کہ مسٹر مڈُورو کےناقدین کا کہنا ہے کہ اُن کی سیاسی پناہ کی پیشکس کی اہمیت محض علامتی ہی مانی جا سکتی ہے، کیونکہ مسٹرسنووڈن کے لئے وینیزویلا پہنچنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ خاص طور پر بولیویا کے صدر کو پچھلے ہفتے پیش آنے والے اس واقعے کے بعد، جس میں متعدد یورپی ممالک نے ان کے جہاز کو اس شک کی بنا پر اپنے یہاں اُترنے کی اجازت نہیں دی تھی، کیونکہ اُنہیں شُبہ تھا کہ جہاز میں مسٹر سنووڈن بھی ہے۔

اور آخر میں اسامہ بن لادن کے آخری ایام کے بارے میں اخبار ’مِرر‘ کی خبر کہ وُہ جاسوسی سیارچوں سے اپنے آپ کو بچانے کے لئے بھاری بھرکم کاؤ بوائے ہیٹ پہنتا ، اپنے باغ میں پھرتا اور اپنے پوتوں کو سبزی اُگانے کے طریقے سکھاتا ، بعض اوقات وُہ باغ میں چہل قدمی کے لئے نکلتا اوراپنےسب سے بڑے بیٹے کے ساتھ گپ لگاتا۔ ایک معمّر شخص کوجسے ایک دیہاتی ماحول اور اُس پر جان چھڑکنے والا کنبہ نصیب تھاروز مرہ کی یہ زندگی معمول کے مطابق لگتی ہوگی۔ سوائے اس کے کہ دنیا کے اس سب سے زیادہ مطلوبہ انسان کے یہ آخری دن تھے،جس کا انکشاف بن لادن کی ہلاکت کے بارے میں پاکستان کی سرکاری رپورٹ کی مسحور کُن تفصیلات سے ہوتا ہے۔

اخبار کے مطابق، اس ہفتے پاکستان کےایک کمیشن نے حکومت اور فوج پر کڑی نقطہ چینی کی ہے کہ القاعدہ کا یہ لیڈر دس سال ملک میں موجود رہا اور اس کا پتہ نہ لگایا جا سکا، اُن میں ایبٹ آباد میں اُس کے آخری چھ سال بھی شامل ہیں۔ کمیشن نے اِسے قومی سانحہ قرار دیا ہے۔
XS
SM
MD
LG